سرینگر/ 21جولائی: کرام برانچ کشمیر نے اپنی نوعیت کے پہلے معاملے میں 30سالہ پُرانے فراڈ کے معاملے میں انڈین سسٹم میڈیسن افسرکے خلاف کیس درج کرلیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کرائم برانچ نے ایک آئی ایس ایم ”انڈین سسٹم آف میڈیسن افسر کے خلاف کیس درج کرلیا ہے ۔ مذکورہ افسر پر الزام ہے کہ انہوں نے جب وہ یونانی میڈیسن میں بیچلر کی ڈگری کررہا تھا اس دوران انہوں نے بطور سرکاری ٹیچر سات برس تک تنخواہ حاصل کرلی ۔ ڈاکٹر شبیر احمد شیخ (غفاری)میڈیکل افسر آئی ایس ایم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 16/2020زیر دفعہ 420آر پی سی کے تحت کیس درج کرلیا ۔مذکورہ افسر کے خلاف کرائم برانچ کے آئی جی افسر کے دفتر میں ایک تحریری شکایت درج ہونے کے بعد معاملہ درج کرلیا گیا تھا ۔ شکائت میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ شخص نارہ بل ایجوکیشن زون ضلع بڈگام سے بطور سرکاری اُستاد 7برس تک تنخواہ حاصل کرتا رہا ۔ مذکورہ شخص کے خلاف انڈین میڈیسن سسٹم کی جانب سے 2018میں ایک انکوائری کمیٹی بٹھائی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ شخص جونئر ہونے کے باوجود نوڈل افسر آئی ایس ایم یونانی میڈیکل کالج گاندربل میں تعینات تھا ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.