سرینگر /20جولائی : شدید گرمیوں کے ان ایام میں وادی کے بیشتر علاقوں میں کوہلوں کی صفائی اور ڈرجنگ کرنے میں متعلقہ محکمہ کی کوئی دلچسپی کے باعث کئی علاقوں میں دھان کے کھیتوں میں پانی کی روانی سے فصل تباہ ہونے کو تیار ہے جس کے نتیجے میں کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ادھر کسانوں نے محکمہ آر ی گیشن پر الزام عائد کر دیا ہے کہ متعلقہ محکمہ کی عدم توجہی کے باعث کھیت سوکھ چکے ہیں ۔ سی این آئی کو اس ضمن میں نمائندوں نے وادی کے مختلف اضلاع سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گرمیوں کے ان شدید ایام میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث کھیت سوکھ چکے ہیںجس کے نتیجے میں دھان کی فصل تباہ ہونے کو آئی ہے ۔ پلوامہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی اور محکمہ اری گیشن و فلڈ کنٹرول کی لاپروائی کے باعث کھیت سوکھ چکے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق کھیتوں میں پانی میسر نہ ہونے کے باعث کھیت بنجر میں تبدیل ہو چکی ہے اور کھیتوں میںموجود دھان کی پنیری تباہ ہونے کو آئی ہے جس کے باعث کسانوں کی سال بھر کی کمائی رائیگاں ہونے کو آئی ہے ۔ ادھر وسطی ضلع گاندربل کے علاقوں میں موجود آبی کوہلوں کی ڈرجنگ اور ان کی صفائی نہ کرنے کے نتیجے میں ان کوہلوں میں پانی کی رفتار محدود ہوکے رہ گئی ہیں جبکہ پانی آلودہ ہونے کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیوں کہ ان کوہلوں کا پانی ہی زیر استعمال لایا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے محکمہ اری گیشن و فلڈ کنٹرول پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ محکمہ کے اہلکار ان کوہلوں کی صفائی اور ڈرجنگ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے ۔ اس دوران نمائندے نے کہا کہ بیشتر علاقوں میں ہزاروں کنال زرعی اراضی پر اس وقت دھان کی فصل تیار ہے اور ان کھیتوں کے اند ر پانی رواں ہونے کے نتیجے میں فصل کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کے نتیجے میں کسانوں کو شدید پریشانی لاحق ہوئی ہے ۔ادھر ضلع بڈگام کے مختلف علاقوں میں بھی یہ حالت ہے اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث کھیت مکمل طور پر سوکھ چکے ہیں جس کے نتیجے میں دھان کی فصل تباہ ہونے کو آیا ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.