4جی انٹرنیٹ کم و بیش ایک سال سے بند ؛طلبہ، میڈیا افراد اور دیگر لوگوں کو مشکلات کا سامنا
سرینگر /20جولائی: وادی میں کم و بیش گزشتہ ایک برس سے 4جی انٹرنیٹ پر پابند عائد ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ طلبہ، میڈیا سے وابستہ افراد ، بیرون یوٹی کمپنیوں میں کام کرنے والے اشخاص کو سخت مشکلات کاسامناکرنا پڑرہا ہے جبکہ وادی میں 4جی تیز رفتار انٹریٹ معاملے پر تاریخ پے تاریخ دہرائی جاتی ہے تاہم انٹرنیٹ کی رفتار نہیں بڑھائی جاتی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق گزشتہ برس اگست کے مہینے میں جموں و کشمیر اور لداخ کوتین حصوں میں بانٹ کر مزکزی سرکار نے لداخ کو یوٹی بشمول ہل ڈیولپمنٹ کونسل اور جموںکشمیر کو الگ یوٹی بشمول اسمبلی بناکر 70برسوں پُرانے دفعہ 370کو منسوخ کرلیا اور اس اعلان سے قبل ہی وادی میں تمام مواصلاتی سہولیات کو ٹھپ کیا گیا جس میںلینڈ لائن ،موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا اور مرحولہ وار طریقے سے لینڈ لائن، موبائل سروس کو بحال کیا گیا اور گزشتہ کئی ماہ پہلے انٹرنیٹ کو بھی بحال کیا گیا تاہم اس کی رفتار کو کم کرکے 2Gکرکے 150کے بی پی رفتار پر چالو رکھا گیا جو ہنوز جاری ہے ۔ تاہم صارفین اس وقت صرف00.10کے بی سے 30-40کے بی رفتار پر ہی انٹرنیٹ چلارہے ہیںجس کے نتیجے میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کو آن لائن کلاسوں میں شمولیات میں کافی پریشانی ہوتی ہے اس کے علاوہ طلبہ آن لائن کالجوں اور سکولوں میں داخلہ نہیں لے پارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یوٹی سے باہر مختلف پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد بھی اپنی رپورٹ کمپنی کو روزانہ کی بنیادوں پر روانہ کرنے سے بھی قاصر ہے جبکہ میڈیا سے وابستہ افراد بھی انٹرنیٹ کی سست رفتار سے تنگ آچکے ہیں ۔ میڈیا افراد کو اپنے اداروں کو ویڈیو اور دیگر فائلیں ارسال کرنے میں بھی کافی دشواریاںپیش آرہی ہے۔ اس صورتحال پر عام لوگوں نے سرکار سے زور دار مطالبہ کیا ہے کہ وادی میں اب فو ر جی انٹرنیٹ کو بحال کیا جائے تاکہ کشمیری عوام بھی بیرون دنیا سے ایک بار پھر رابطہ بناسکیں۔
Comments are closed.