کولگام جھڑپ میں جیش کمانڈر کی ہلاکت فوج و فورسز کیلئے بڑی کامیابی / آئی جی پی
مہلوک کمانڈر آئی ای ڈی ماہر اور 12اعلیٰ انتہائی مطلوب کمانڈروں میں سے ایک تھا
پولیس جنگجوئوں کے اہلخانوں کو ہراساں نہیںکرتی ، مہلوک جنگجو کی والدہ کو ثبوتوں کے بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا
سرینگر/17جولائی/سی این آئی// کولگام جھڑپ میں آئی ای ڈی ماہر اور 12کمانڈروں میں سے ایک انتہائی مطلوب جیش کمانڈر اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گیا کی بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجے کمار نے کہا کہ پولیس جنگجوئوں کے اہل خانوں کو ہراساں نہ کرتی ہے اور صرف ایک جنگجو کی والد ہ کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کے پاس ان کے خلاف کافی ثبوت موجود تھے ۔ سی این آئی کے مطابق پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کولگام جھڑپ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام کے دمحال ہانجی پورہ میں فوج و فورسز اور پولیس کی مشتر کہ کارورائی کے دوران تین جنگجو مارے گئے جن میں آئی ای ڈی ماہر جیش کمانڈر ولید بھٹ بھی شامل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ولید جیش کا کمانڈر تھا اور پولیس و فورسز کو انتہائی مطلوب 12 کمانڈروں میں سے ایک تھا جن کی فہرست پہلے ہی 2 جولائی کو میڈیا کے ساتھ شیئر کی جاچکی ہے ، آئی جی پی نے مزید کہا کہ جھڑپ میں مارے گئے دو مزید جنگجوئوں کی ابھی تک شناخت نہ ہو سکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل سوپور جھڑپ میںلشکر کے جنگجو کو مارا گیااور وہ بھی مطلوب ترین جنگجوئوں کی لسٹ میں شامل تھا ۔ آئی جی پی نے کہا کہ کولگام جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ ولید بھائی پچھلے ڈیڑھ سال سے سرگرم تھے اور وہ جنوبی کشمیر کے علاقوں قاضی گنڈ شاہراہ سمیت دیگر علاقوں میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے قبضے سے امریکی ساختہ M-4 کاربین برآمد کرلی ہے۔انہوںنے بتایا کہ ایک اور جنگجو جو دس مطلوب ترین جنگجوئوں کی لسٹ میں شامل ہے وہ ہے ساجد عرف حیدر ہے ، جو سوپور میں سرگرم ہے اور اس نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں پولیس سے کہا گیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو نشانہ نہ بنائے۔ آئی جی پی نے بتایا کہ بی جے پی کارکن کے اغوا کاری میں ملوث وہ ہی تھا ۔ عسکریت پسندوں کو اپنے پیغام میں آئی جی پی نے کہا کہ پولیس عسکریت پسندوں کے کنبہ کے افراد کو نشانہ نہیں بناتی اور نہ ہی انہیں کسی طرح کی ہراساں کرنے میں ملوث ہے۔ صرف ایک ہی معاملہ ہے جہاں ہم نے ایک مہلوک جنگجو کی والدہ کو گرفتار کیا جس کے خلاف پولیس کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ (سی این آئی )
Comments are closed.