ضلع کپوارہ میں لوگ تمام تر بنیادی حقوق سے محروم؛قدرتی آبی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود بھی پینے کا پانی دستیاب نہیں

سرینگر/15جولائی: لوگوں کو پینے کا صاف پانی حاصل کرنا انسان کا بنیادی حق ہے تاہم ضلع کپوارہ میں بے شمار قدرتی آبی ذرائع نے ہونے باوجود بھی ان کو بروئے کار نہ لانے کی وجہ سے ضلع کی ایک بڑی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے بیشتر علاقے اگرچہ دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے تاہم ضلع کی ایک بڑی آبادی کو پینے کے صاف پانی سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔ ضلع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا ہے کہ ضلع میں لوگوں کو دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے علاوہ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔ لوگوں نے کہا کی جموں کشمیر یوٹی میں تبدیل ہونے کے بعد ایل جی سرکار نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ سابقہ سرکاروں کے دور میں جو تعمیر و ترقی کے کام رُکے پڑے ہیں ان کو پورا کیا جائے گا تاہم زمینی سطح پر ایسا کہیں بھی نظر نہیںآرہا ہے بلکہ محض اخبارات اور کاغذوں تک ہی ان اعلانات کو محدود رکھا گیا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ضلع کپوارہ کو قدرت نے آبی ذخائر سے مالا مال کیا ہوا ہے تاہم متعلقہ محکمہ جات اور سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے ان آبی ذخائر کو لوگوں کے استعمال کے قابل نہیں بنایا جاتا ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں ضلع میں ایک بھی واٹر سپلائی سکیم کو مکمل نہیں کیا گیا جس طرح نگری ملپورہ واٹر سپلائی سکیم تشنہ تکمیل ہے ۔ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سرکار سے زور دار مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھرمیں پینے کے پانی کی سپلائی میں معقولیت لائی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔

Comments are closed.