کورنا وائرس کے کیسوں میںہرگزرتے دن میں اضافہ اور اموات میں تیزی

شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں دوبارہ سے لاک ڈائون کا نفاذ

بیشتر علاقے سیل ،بازاروں اور سڑکوں پر ایک بار پھر ویرانی چھا گئی، لوگ گھروں میں محصور

سرینگر/13جولائی: کورنا وائرس کے کیسوں میںہرگزرتے دن میں اضافہ اور اموات میں بھی تیزی کے بعد شہر سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں دوبارہ لاک ڈائون کے باعث معمول کی زندگی مکمل طور پر ٹھپ رہ گئی ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دوسرے علاقے میں سوموار کی صبح سے سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا تھا جبکہ کئی علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بازاروں اور سڑکوں پر ایک بار پھر ویرانی چھا گئی ۔ سی این آئی کے مطابق کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ اور اموات کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ضلع انتظامیہ سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں انتظامیہ نے آج یعنی 13جولائی سے دوبارہ لاک ڈائون کے نفاذ کا اعلان کیا تھا ۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ سرینگر ، پلوامہ ، اننت ناگ اور گاندربل کے علاوہ دیگر کئی اضلاع میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ان احکامات کے پیش نظر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں سوموار کی صبح سے ہی سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا تھا جس کے نتیجے میںمعمول کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ۔ سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر کے متعدد علاقوں میں سوموار کی صبح ہی سخت ترین بندشیں عمل میں لائی گئی تھی جس دوران شہر میں جابجا سڑکوں کو سیل کردیا گیا تھا اور پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جس دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔شہر میں داخل ہونے والے راستوں کو صبح سے ہی سیل کردیا گیا تھا اور شہر کی طرف آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا۔شہر میںلوگوں کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔کئی علاقوں میںصبح سے ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے اعلانات کئے گئے کہ لو گ گھروں میں رہیں۔شہر کے سول لائنز ،پائین شہر اور دیگر علاقوں میں پولیس اور فورسز نے سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تار نصب کی تھی اور گاڑیوں کو روکا جارہا تھا۔شہر میں دن بھر بازار بندرہے اور سڑکیں بھی سنسان نظر آرہی تھیں۔ادھر اننت ناگ سے بھی نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں سوموار کی صبح سے ہی سخت ترین بندشیں عائد کر دی گئی تھی جس دوران تجارتی و کارو باری سرگرمیاں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ نمائندے کے مطابق ضلع کے بیشتر مقامات اور اہم راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا اور کسی کو بھی آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی تاہم پیدل چلنے والوں پر کوئی پابندی نہیں تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں اتوار کو بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ ادھر پلوامہ سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کو ضلع میں دوبارہ بندشوںکا نفاذ عمل میںلایا گیا تھا جس کے نتیجے میںمعمول کی زندگی متاثر رہی ۔ ادھر گاندربل سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں بھی سوموار کی صبح سے ہی سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کے نتیجے میں تجارتی و کارو باری سرگرمیوں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل غائب رہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں صبح سے ہی بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا تھا جس کے چلتے لوگ گھروں میںہی محصور ہو کر رہ گئے ۔ ادھر وادی کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کی اطلاعات موصول ہوئی جس دوران نمائندے کے مطابق سوموار کو تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔

Comments are closed.