نالے سندھ میں غرقاب ہوئے سرینگر کے دو نوجوانوں میںسے ایک کی نعش بر آمد
دوسرے کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ، پولیس و سیول انتظامیہ کے علاوہ ماہر غوطہ خور بھی کوشاں
سرینگر/06جولائی: وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں اتوار کو نالے سند ھ میں غرقاب ہوئے سرینگر کے دو نوجوانوں میں سے ایک نعش سوموار کی اعلیٰ صبح بر آمد کر لی گئی تاہم دوسرے کی تلاش جاری ہے ۔ سوموار کو مسلسل دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہا جس دوران پولیس اور مقامی غوطہ خوروںنے دن بھر کارورائی جاری رکھی ۔ سی این آئی کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کچہ پورہ کنگن میں سندھ نالہ میں نہانے کے دوران سرینگر کے دو نوجوان اتوار کے روز غرقآب ہو ئے تھے ۔ دونوں نوجوانوں کو غرقآبی کی خبر ملتے ہی پولیس اور مقامی غوطہ خوروں نے لڑکوںکو دریائے سندھ سے نکالنے کیلئے آپریشن شروع کردیا ہے اور سوموار کی صبح ایک نوجوان کی نعش بر آمد کر لی گئی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی شام دیر گئے پولیس ،مقامی لوگوں اور غوطہ خوروں نے اندھیرے کے باعث تلاش کا کام روک دیا گیا۔ اور سوموار کی صبح جونہی بچائو آپریشن دوبارہ بحال کیا گیا تو ایک نوجوان جس کی شناخت زاہد فاروق راتھر ولد فاروق احمد راتھر ساکن پالہ پورہ نورباغ لاش کو ڑنر کنگن کے مقام پر برآمد کیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ یاد رہے کہ وادی میں گزشتہ ماہ سے غرقآبی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ چھوٹے بچے اور لڑکے گرمی سے بچنے کیلئے ندی نالوں اور دریائوں میں نہانے جاتے ہیں جہاں پر حادثاتی طور پر کوئی کوئی پانی میں ڈوب جاتا ہے اور گزشتہ 50روز سے وادی کے مختلف علاقوں سے کم سے کم 15بچے غرقآب ہوچکے ہیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بہرام پورہ سوپور میںواٹر فال میں ایک کم عمر لڑکی ڈوب کر لقمہ اجل بن گئی جبکہ 28مئی کو وسطی ضلع گاندربل کے کنگن قصبہ میں ایک 3سالہ بچہ پانی میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیاذرائع کے مطابق ، کنگن میں وانگاتھ کے قریب لڑکا ، عرفان احمد کھٹانا ولد شوکت احمد کھٹانہ نالہ میں اُس وقت دوب گیا جب اس کا پیر پھسل گیا اور وہ پانی کے تیز بہائو کے ساتھ ہی بہہ گیا ۔ اس دوران بچے کی نعش کو ڈھونڈنے کیلئے مقامی غوطہ خور اور پولیس کی ٹیم سرگرم ہوچکی ہے اورپانی سے نعش کونکالنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک بچے کی نعش کو برآمد نہیں کیا گیا تھا ۔
Comments are closed.