شہر سرینگرعسکریت سے پاک نہیں ، جنگجو مختلف کاموں کیلئے سرینگر کا رخ کرتے ہیں / آئی جی پی کشمیر
حزب، لشکر اور جیش سے وابستہ 12اعلیٰ جنگجو فوج و فورسز کے راڈر پر ، پتہ لگایا جا رہا ہے
ملہ باغ جھڑپ میںمارا گیا جنگجو ہمارے لئے بڑا مجرم تھا، اسکی ہلاکت بڑی کامیابی
سرینگر/03جولائی: ضلع سرینگرعسکریت سے پاک نہیں ہے کی بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج وجے کمارنے کہا کہ سرینگر میں جنگجوئوں کی جانب سے اڈہ قائم کرنے سے قبل ہی انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع سے جنگجو سرینگر طبی خدمات اور فنڈس وصول کرنے کیلئے آتے ہیں تاہم ’’ہمیں اس کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ہم اْنہیں مار ڈالتے ہیں‘‘۔سی این آئی کے مطابق ملہ باغ سرینگر میں مسلح جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے سی آر پی ایف اہلکاروں کی گلباری کی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ ضلع سرینگر کئی وجوہات کی بنا پر ملی ٹنسی فری نہیں ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا’’میں نے کئی بار بولا ہے کہ جس ضلع کے اندر کوئی مسلح جھڑپ نہ ہو اْس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہاں جنگجو موجود نہیں ہیں۔جنگجو اپنی چھپنے کی جگہیں بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں اس کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ہم اْنہیں مار ڈالتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’سرینگر ایک ایسا شہر ہے جہاں جنگجو آتے رہتے ہیں، کبھی علاج و معالجہ کیلئے،کبھی فنڈ ریزنگ کیلئے اور کبھی میٹنگوں کیلئے وغیرہ۔سرینگر ملی ٹنسی فری نہیں ہوسکتا ہے‘‘۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں سری نگر میں تین مسلح جھڑپیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ضلع میں انکاؤنٹر نہیں ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ علاقہ یا ضلع عسکریت پسندی سے پاک ہے۔آئی جی پی نے بتایا کہ مالباغ جھڑپ میں پولیس اور سی آر پی ایف نے اننت ناگ ضلع کے ایک آئی ایس جے کے کمانڈر زاہد داس کو ہلاک کیا جو چار دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ پولیس اور سی آر پی ایف پر سلسلہ وار حملوں میں ملوث تھا۔ جس میں ایک بچہ بھی شامل ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ ہمارے لئے بڑا مجرم تھا۔اور ان کی ہلاکت ہمار ے لئے بڑی کامیابی ہے ۔حزب ، لشکر اور جیش کے 12کمانڈروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہا کہ جو پولیس کے راڈار پر ہیں ان میں حزب کے پانچ ، لشکر کے تین اور جیش کے چار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے پہلے ہی ان کے ناموں کا اعلان کیا ہے اور ان کا سراغ لگا لیا جارہا ہے۔
Comments are closed.