ہند چین کشیدگی کے بیچ وزیر اعظم مودی کا اچانک دورہ لیہہ، سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

لداخ میں فوجیوں کی بہادری نے دنیا کو پیغام بھیجا کہ بھارت کمزور نہیں / فوجی اہلکاروں سے کیا خطاب

سرینگر/03جولائی: مشرقی لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنائوکے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کی صبح اچانک لیہہ پہنچے۔جس دوران انہوں نے وہاں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ ا س دوران انہوں نے لداخ میں فوجی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ لداخ میں فوجیوں کی بہادری نے ہندوستان کی طاقت کے بارے میں پورے دنیا کو ایک پیغام بھیجا کہ بھارت کمزور نہیں ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق بھارت اور چین کے مابین مشرقی لداخ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کی صبح اچانک لیہہ پہنچے۔ان کے ہمراہ ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت بھی ہیں۔فوجی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی صبح ساڑھے نو بجے کے آس پاس لیہہ پہنچ گئے۔ذرائع نے کہا کہ نریندر مودی سیدھے ایل اے سی پر قائم نیمو نامی اگلی چوکی پر جاپہنچے اور وہاں فوج،فضائیہ اور آئی ٹی بی پی حکام کے ساتھ بات چیت کی۔ نیمو کی اگلی چوکی11000فٹ کی بلندی پر دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے جس کے آس پاس زنسکار کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ادھر لداخ میںفوجی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے مشرقی لداخ میں چینی فوجیوں کے ساتھ ہونے والے پرتشدد جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے 20 فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ فوجیوں کی بہادری نے ہندوستان کی طاقت کے بارے میں ایک پیغام بھیجا ہے۔لداخ کے حیرت انگیز دورے کے دوران آرمی ، ایئرفورس اور آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ آمنیربھارت کے لئے ہندوستان کا عزم آپ کی اور آپ کے مضبوط عزم کی وجہ سے مضبوط تر ہوتا ہے۔انہوں نے اہلکاروں کو بتایا کہ ان کی مرضی کی طاقت اتنی ہی مضبوط اور مضبوط ہے جتنی ہمالیہ۔ اور پورا ملک ان پر فخر ہے۔ واضح رہے کہ لیہہ سے سوا دو سو کلو میٹر کی دوری پر واقع ایل اے سی پر بھارت اور چین کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ہیں اور وہاں کشیدگی کا ماحول قائم ہے۔ایل اے سی کے اسی حصے میں گلوان وادی کے مقام پر گذشتہ ماہ چینی افواج کے ساتھ لڑائی میں 20فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

Comments are closed.