سرینگر/26جون/سی این آئی// وادی اور بیرون وادی جیلوں میں کشمیری اسیران کی حالت کو قابل تشویش قراردیتے ہوئے اسیران کے والدین نے کہا ہے کہ بیرون وادی جیلوں میں مقید افرادشدت کی گرمی سے کافی پریشان ہے جبکہ بھارت میں کوورناوائرس کے بڑھتے معاملات سے اسیران کی صحت بھی خراب ہوسکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی سے باہر جیلوں میں مقید افراد کے اہلخانہ نے مختلف جیلوں کے اندرمحبوس کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں تمام مسلمہ اخلاقی ، جمہوری اور انسانی قدروں حتیٰ کہ قانونی پہلوئوں کو بھی بالکل نظر انداز کرکے ان قیدیوں کے ساتھ ناروا برتائو روا رکھا جارہا ہے۔اسیران کے رشتہ داروں نے کہا ہے کہ جرم بے گناہی کی پاداش میں ان قیدیوں کو ان عدالتی احکامات جن کے تحت ان لوگوں کو اپنے گھروں کے نزدیکی جیلوں میں رکھنے کے احکامات دیئے گئے ہیں ،کو نظر انداز کرکے اپنے گھروں سے دور اس تپتی اور جھلستی گرمی میں کورٹ بلوال ، جموں، کٹھوعہ، راجستھان، ہریانہ اور دلی کے تہاڑ جیل میں اذیت ناک حالت میں رکھا گیا ہے جہاں بیشتر قیدی شدید بیمار ہو گئے۔اسیران کے رشتہ داروںنے کہا کہ کووڈ 19کے چلتے اگرچہ عدالت عظمیٰ نے بھی ریاستوں کو ہدایت کی تھی کہ قیدیوں کو رہا کی جائے تاہم کشمیر سے تعلق رکھنے والے محض گنے چنے افراد کو ہی رہا کیا گیا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے وادی سے باہر مختلف جیلوںمیں اسیران کشمیریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ معمولی نوعیت کے کیس ہونے کے باوجود بھی ان کو صرف اس لئے قید رکھا گیا ہے اور سالہاسال سے زندانوں میں بے یارومدد گار پڑے ہوئے ہیں ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.