ترال میں 19گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح تصادم آرائی اختتام پذیر، 3جنگجو جاں بحق ، مکان تباہ
طرفین کے مابین گولی باری میں دو فورسز اہلکا ر بھی زخمی ، ترال کے حساس مقامات میں بند شیں
موبائیل انٹر نیٹ بند مسلسل دوسرے روز بھی بند ، جھڑپ میں جاں بحق جنگجو کا غائبانہ نماز جنازہ ادا
سرینگر/26جون: سوپور کے بعد جنوبی قصبہ ترال کے چیو ا اولر گائوں میں 19گھنٹوں تک جاری رہنے والی فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی میں 3جنگجوجاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ طرفین کے مابین گولی باری کے نتیجے میں فوجی اہلکار بھی زخمی ہو گیا ۔اور رہائشی مکان کو نقصان پہنچ گیا ۔ پولیس و فوج نے جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ کے مقام سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ہے ۔ ادھر جھڑپ کے ساتھ ہی پولیس ڈویژن اونتی پورہ میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کر دی گئی جو مسلسل دوسرے روز بھی معطل رہی ۔ جبکہ جھڑپ کے اختتام کے ساتھ ہی حساس مقامات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تاہم اس کے باوجود بھی ترال میں جاں بحق جنگجو کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ترال کے چیوا اولر علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد جمعرات کی شام فوج کے 42آر آر ، 180بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں مسلح جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایک رہائشی مکان میں چھپے جنگجوئوں نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری کچھ وقت تک جاری رہی جس کے بعد علاقے میں خاموشی چھا گئی ۔ جس کے ساتھ ہی فوج و فورسز نے علاقہ کا وسیع محاصرہ کیا تاہم شام ہونے کے ساتھ ہی اندھیر ا چھا جانے کے بعد فوج نے آپریشن جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دیا اور علاقے میںروشنی کے آلات نصب کرکے جنگجوئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے کو بند کر دیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ رات کے دوران آپریشن ملتوی رہنے کے بعد علاقے میں مکمل طور پر خاموشی چھائی رہی تاہم جمعہ کی اعلیٰ صبح اس وقت پھر گولیوں کی گرن گرج سنائی دی جب رہائشی مکان میںمحصور جنگجوئوں کو خود سپردگی کرنے کی پیشکش کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے فوج و فورسز پر گولیوں چلائی اور طرفین کے مابین گولی باری کاتبادلہ دوبارہ شروع ہو گیا ۔ جمعہ کی اعلیٰ صبح علاقے میں کئی گھنٹوں تک طرفین کے مابین گولی باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد فوج و فورسز نے اس مکان جس میں جنگجو چھپے بیٹھے تھے کو آف لگائی اور بارودی سرنگ سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں مکان میںموجود تینوں جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ میں تین جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق جنگجو ئوں کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کر لیا ۔ادھر فوج نے بھی سماج وئب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ترال آپریشن اختتام پذیر ہوا جس میں تین جنگجو وں کو ہلاک کیا گیا ۔ اور ان کے قبضے سے اسلحہ و دیگر جنگی ہتھیار بر آمد کر لئے گئے ہیں ۔ پولیس ترجمان کے مطابق جھڑپ میں مارے گئے تینوں جنگجوئوںکی نعشیں بر آمد کر لی گئی اور ان کی شناخت کرنے کے حوالے سے کارورائی شروع کر دی گئی ہے ۔ ادھر جھڑپ کے اختتام کے ساتھ ہی ترال اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے جبکہ موبائیل انٹر نیٹ خدمات پہلے سے ہی بند پڑی ہوئی ہے۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ ترال جھڑپ میں جاں بحق تینوں جنگجوئوں کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا گیا ۔
Comments are closed.