ویڈیو:قصابوں اور مرغ فروشوں کی من مانیوں کے خلاف؛ڈلگیٹ کے عوام نے کمر کس لی، مرغ اور گوشت خریدنے کا مکمل بائیکاٹ
سرینگر/25جون: مرغ فروشوں اور قصابوں کی جانب سے سرکاری نرخنامے بالاے طا ق رکھنے اور من مانی قیمتیں رائج کرنے کے خلاف شہر سرینگر کے ڈلگیٹ علاقہ کے لوگوںنے گوشت اور مرغ خریدنے کا مکمل بائیکاٹ کررکھا ہے اور انہوں نے وادی کے دیگر لوگوں کو بھی اس طرح ناجائز منافع خوری کے خلاف آواز اُٹھانے کا مطالبہ کیا ہے دوسری طرف سرکاری محکمہ جات جن کے زمہ سرکاری نرخنامے کو زمینی سطح پر لاگوکرنا ہے وہ باالکل خاموش بیٹھے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں نامساعد حالات اور کوروناوائرس کی آڑ میں اگرچہ تمام تاجروں اور دکانداروں نے ناجائز منافع خوری عروج پر پہنچائی ہے اور آج تک عوامی طور پر کہیں پر بھی آواز نہیں اُٹھی تاہم شہر سرینگر کے ڈلگیٹ علاقے کے لوگوں نے ناجائز منافع خوروں کے خلاف کمر کس لی ہے اور گزشتہ 20روز سے مرغ اور گوشت خریدنے کا مکمل بائیکاٹ پر ہے ۔ مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ ناجائز منافع خور دکاندار خاص کر قصاب حالات کی آڑ میں کبھی موسمی تبدیلی کی آڑ میں اور اب کوروناوائرس کی آڑ میں لوگوں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ برس دفعہ 370کی آڑ میں گوشت کی قیمت کو 440سے 500روپے کردیا گیا اور اس کے بعد موسم سرماء میں ماہ نومبر میں جب سخت برفباری ہوئی تو سرینگر جموں شاہراہ بند رہنے کی آڑ میں گوشت فی کلو 540تک پہنچایا گیا اور اب کوروناوائرس کی آڑ میں گوشت فی کلو 600روپے فروخت کیا جارہا ہے اگرچہ سرکار ی محکمہ جات کی جانب سے گوشت فی کلو 440روپے ہے اور مرغ 90روپے لیکن اس کے برعکس مرغ فروش اور مٹن فروش اپنی من مانی قیمتوں کے حساب سے عام فہم گراہکوں کو لوٹ رہے ہیں ۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ دکاندار وں کی لگام کسنے کیلئے جو محکمہ جات ہے زمینی سطح پر ان کا کہیں بھی نام و نشان موجود نہیں ہے ۔ اس بے انصافی کے خلاف شہر سرینگر کے ڈلگیٹ علاقہ کے لوگوں نے گوشت اور مرغ خریدنے کا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور انہوںنے وادی کشمیر کے دیگر لوگوں کوبھی مشورہ دیا ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری کے خلاف صف آراء ہوجائیں۔
Comments are closed.