سرینگر/24جون: کووڈ19کے نتیجے میں بھارت میں لاک ڈاون رواں برس ماہ مارچ سے قریب تین ماہ تک جاری رہا جس کے نتیجے میں بڑ ے بڑ ے کارخانے اور ملکیں بند ہوگئیں جبکہ سرکار بھی دیوالیہ کے قریب پہنچ چکی ہے تاہم جموں کشمیر باالخصوص وادی کشمیر میں 5اگست 2019سے تمام سرگرمیاں بند ہے ٹوارزم سیکٹر ، میوہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ فکٹریاں ، کارخانے اور دکانات بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے اہلیان وادی مالی مشکلات سے دوچار ہیں اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکار کو چاہئے کہ وہ جموںکشمیر باالخصوص وادی کشمیر کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاون کیا گیا اور دنیا بھر میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئی اس کے ساتھ ساتھ کووڈ19کے پیش نظر بھارت میں بھی لاک ڈاون شروع کیا گیا اور ماہ مارچ سے قریب تین ماہ تک بھارت میں معمولات ٹھپ رہیں ریل خدمات ، ٹرانسپورٹ تجارت بند رہنے کے نتیجے میں کئی فیکٹریاں بند ہوئیں کارخانے مقفل ہوئے جبکہ کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے تاہم جموں کشمیر باالخصوص وادی کشمیر گزشتہ برس 5اگست سے مسلسل بند ہے یہاں پر ٹوراز م جو سب سے بڑی انڈسٹری مانی جاتی ہے اور جموں کشمیر کی اقتصادی لحاظ سے ریڈھ کی ہڑی مانی جاتی ہے ٹھپ ہے ۔ اس کے علاوہ میوہ صنعت جو ٹورازم کے بعد روزگار اور مالی وسیلہ کا سب سے بڑا ذریعہ مانا جاتا ہے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔یہاں پر انڈسٹریاں بند ہے ۔ کارخانے بند ہے دکانیں مقفل ہے ، کمرشل ٹرانسپورٹ معطل ہے ۔ وادی میں تجاری سرگرمیاں قریب ایک سال سے متاثر ہے جس کے نتیجے میں اہلیان وادی کافی مالی مشکلات سے دوچار ہے ۔ جموں کشمیر یوٹی بننے کے باوجود بھی سرکار نے تین دہائیوں سے حالات کے مارے کشمیر کیلئے کوئی خصوصی راحتی پیکیج کا اعلان نہیں کیا ناہی تاجروں ، کسانوں اور میوہ صنعت سے جڑے افراد کے قرضہ جات معاف کیا جیسا کہ امید لگائی جاتی تھی ۔ وادی کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے کرفیو، بندشیں اور ہڑتا ل کے نتیجے میں کافی پیچھے رہ گئی ہے جس کو مد نظر رکھ کر سراکر کو اب چاہئے کہ کووڈ19کی وجہ سے اور زیادہ خسارہ کی شکار اس وادی کیلئے خصوصی مالی پیکیج کا اعلان کریں ۔
Comments are closed.