ویڈیو: ٹریکنگ کے دوران نار اناگ گاندربل سے پی ایچ ڈی اسکالر کی گمشدگی؛اہل خانہ کا پریس کالونی سرینگر میں احتجاج ، لخت جگر کو باز یاب کرنے کی مانگ کی

سرینگر/22جون: گاندربل کے نارا ناگ علاقے سے ٹریکنگ کے دوران پر اسر ار طور پر لاپتہ ہوئے بمنہ کے پی ایچ ڈی اسکالر کے اہل خانہ نے سوموار کو پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے لخت جگر کو باز یاب کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائے ۔ سی این آئی کے مطابق ضلع گاندربل میں گنگہ بل نارا ناگ علاقے میں گزشتہ ہفتہ ٹریکنگ کے دوران لاپتہ ہونے والے بمنہ سرینگر کے پی ایچ ڈی اسکالر ہلال احمد کی پُر اسرار گمشدگی کے خلاف اہل خانہ نے سوموار کو پریس کالونی سرینگر میں زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہلال احمد کو لاپتہ ہوئے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا تاہم ان کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ حاصل نہیں کیا گیا ہے ۔ احتجاجی مظاہرین جن میں خاتون کی بری تعداد شامل تھی نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھیں تھے جب پر ہلال احمد کو باز یاب کرو ،ہلال کو قید سے رہا کریں، "ٹریکنگ کے دوران لاپتہ بے قصور کو آزاد کروں اور عسکریت پسندی سے کوئی رابطہ نہیں ہے کے نعرے درج تھے ۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلال احمد کے اہل خانہ نے بتایا کہ ہلال گذشتہ 14 جون کو ضلع گاندربل میں واقع نارنگ گنگابیل جھیل پر سیر کرنے گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تب سے ، ہلال کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے ہلال کو ڈھونڈنے کی کافی کوششیں کی تاہم آج تک اس کا کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں ہوسکا اور نہ ہی کوئی اس بارے میں بتایا ہے کہ ہلال آخر کہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے ہلال نے کہا کہ وہ نارا ناگ ٹریکنگ کیلئے جا رہے تاہم ابھی تک وہ واپس نہیں لوٹا ۔ احتجاجی کنبہ نے مطالبہ کیا کہ ہلال کا جلد از جلد پتہ لگایا جائے اور اسے گھر واپس لایا جائے ۔

 

Comments are closed.