لل دید اسپتال میں حاملہ خاتون کی ہلاکت کا معاملہ:رشتہ داروں نے کیا ہسپتال عملہ کے خلاف احتجاج ، لاپرواہی کا ڈاکٹروں پر الزام

سرینگر/22جون: لل دید ہسپتال میں ایک حاملہ خاتون کی موت واقع ہوئی ہے جس کے رشتہ داروں نے ہسپتال عملہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے سبب خاتون فوت ہوئی ہے جبکہ اس ضمن میں ہسپتال حکام نے ان الزامات کو یکسر مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی اور اگر کسی کو لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر کے لل دید ہسپتال میں آج ایک حاملہ خاتون کی موت واقع ہوئی ہے اس ہلاکت کی وجہ ہسپتال عملہ کی لاپرواہی قراردیتے ہوئے ڈاکٹروں کے خلاف خاتون کے رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔عینی شاہدین نے کہا کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے مشتاق احمد بٹ کی اہلیہ 21 اور 22 جون کی درمیانی شب میں اس خاتون کو ایل ڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم خاتون ہسپتال عملہ کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے فوت ہوئی ۔ اہلخانہ نے ہسپتال کے احاطے میں جمع ہوکر ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج کیا ۔ اس ضمن میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لل ڈیڈ اسپتال ، ڈاکٹر شبیر احمد نے بتایا کہ یہ خاتون کا بروقت علاج کرایا گیا تھا۔ "بدقسمتی سے مریضہ دل کے عارضہ میں مبتلاء تھی اور دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پروٹوکول کے مطابق فوت شدہ خاتون کے نمونے کوروناوائرس کیلئے حاصل کئے گئے ہیں ۔اس دوران ہسپتال انتظامیہ نے متوفی کے رشتہ داروں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوںنے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور عملہ کے ساتھ زیادتی کی ۔اس دوران انہوں نے کہا کہ جہاں تک لاپرواہی کے الزامات ہیں ، اسپتال انتظامیہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے اور اگر کوئی ملوث پایا گیا تو کارروائی عمل میں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ کوتاہی برتنے والوں کیلئے یہاںکوئی جگہ نہیں ہے البتہ بلاوجہ ہسپتال عملہ کے ساتھ زیادتی کرنا اور ہسپتال کی جائیداد کو نقصان پہنچانا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ (سی این آئی )

Comments are closed.