سرینگر/22جون/سی این آئی// لداخ میں حقیقی کنٹرو ل لائن پر تنائو اور کشیدگی کے بیچ سوموار کو ہندستان اور چین کی فوجی کمانڈروں کی دوسری میٹنگ ہوئی جس دوران سرحد پر ہونے والے حالیہ واقعات پر تبادلے خیال کیاگیا ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ہند چین کے مابین کشیدگی کے بیچ سرحد پر تنائو کو ختم کرنے کیلئے ہندستان اور چین کی فوجی کمانڈروں کی دوسری میٹنگ ہوئی ۔ اس سلسلے میں لداخ کے شمالی علاقے میں لیفٹیننٹ جنرل ہریندرسنگھ اور چین کے میجر جنرل لی لین جو کہ سیکیانگ صو بے کے کمانڈر ہیں نے سرحد پر ہونے والے حالیہ واقعات پر تبادلے خیال کیا ۔ پچھلے ہفتے گلوان وادی میں ہندستان کے 20فوجی جن میں ایک کرنل میں شامل ہیں ہلاک ہوئے۔ جب چین کے فوجیو ںنے انہیں لاٹھیوں اور نوکیلے ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے تنائو بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سطحوں پر کئی باربات چیت ہوئی ۔ لیکن چین پیچھے ہٹنے کے موڑ میں ہی نہیں ہے او راسی وجہ سے 15جون کو اس وقت دونوں فوجیوں کے درمیان زبردست تصادم ہوا جب چین نے لائن آف کنٹرول کے اس تک خیمہ لگانے کی کوشش ۔ چین نے 10ہندستانی فوجیو ںکو یرغمال بھی بنا یا لیکن بعد میں ان کو رہا کردیا ۔ ہندستان نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ واپنے فوجیوں کو پٹرول پوائنٹ 14.15سے ہٹائے تا کہ با ت چیت کے لئے ماحول ساز گا ربن سکے۔ چین نے حال ہی میں گلوان وادی کوبھی اپنا حصہ قراردیا ۔ جس کو ہندستان نے اس دعوی کو مسترد کردیا ۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ گلوان گھاٹی کے علاوہ دوسرے تنائو پوڑ چوکیو ںکے بارے میں بھی تبادلے خیال ہوا ۔ اس سے پہلے یہ فوجی جنرل چھ جون ملے اور یہ طے پا یا گیا تھا کہ دونوں طرف کی فوجیوں اپنی اپنی طرف واپس لوٹیں گی ۔ سرحد کے حالات کا جائزہ لینے کے بارے میںوزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاع کے تینوں سربراہوں سے میٹنگ کی اور فوج کو یہ اختیا ردیا گیا کہ چینی فوجوں نے آئندہ دراندازی کی کوشش کی تو وہ منھ توڑ جو اب دینے کے لئے آزاد ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.