اننت ناگ میں 19سالہ نوجوان نہانے کے دوران غر قاب ہوکر لقمہ اجل

نالہ پہرو سے غرق آب ہوئے کم عمر لڑکے کی نعش تین روز بعد برآمد

سرینگر/19جون: نالہ پہروں میں تین روز پہلے ڈوب جانے والے ایک کم عمر لڑکے کی نعش کو آج پولیس نے برآمد کرلیا ہے ۔ ضروری لوازمات پورا کرنے کے بعد نعش کو ورثاء کے سپرد کی گئی ہے ۔ادھر جنوبی ضلع اننت ناگ میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب اچھ بل علاقے میں ایک پونڈ میں 19سالہ نوجوان نہانے کے دوران غرقآب ہو گیا جس کے بعد اس کی نعش بر آمد کر لی گئی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں رواں ہفتے منگل کے روز ایک تین سالہ بچہ نالہ پہروں میں ڈوب گیا تھا جس کی شناخت حامد مسعود ساکنہ واڈورہ پائین سوپور کے بطور ہوئی ہے ۔ تین روز تک مسلل تلاش کے بعد آج جمعہ کو مذکورہ بچے کی نعش کو دریا ء سے برآمد کیا گیا ۔ بچہ جس روز نالہ میں ڈوب گیا جس کے بعد مقامی غوطہ خوروں کے علاوہ پولیس کی ایک ٹیم بھی بچے کو پانی سے نکالنے میں مصروف ہوئی تاہم رات دیر گئے تک جب بچہ نہیں ملا تو آپریشن دوسرے روز تک ملتوی کیا گیا اس طرح تین دنوں تک پولیس اور مقامی لوگ بچہ کو پانی سے نکالنے کی کوشش کررہے تھے اور باالآخر جمعہ کے روزہ بچے کی نعش کو برآمد کرلیا گیا ۔ اس ضمن میں پولیس نے معاملہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نعش تین روز بعد برآمد کرلی گئی ہے ۔ اور اس ضمن میں کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ادھر اننت ناگ کے رانی پورہ علاقے میں اس وقت کہرام مچ گیا جب 19سالہ نوجوان راہل احمد شیخ نہانے کے دوران پونڈ میں غر قاب ہو کر لقمہ اجل بن گیا ۔ پونڈ سے نعش نکال کر لواحقین کو آخری رسومات کیلئے سپرد کی گئی۔

Comments are closed.