راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہندوپاک افواج کے مابین گھماسان

دونوں جانب جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال، مورٹار کے دھماکوں سے سرحدیں دہل اُٹھی

سرینگر/19جون: صوبہ جموں کے سرحدی ضلع راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں جمعہ کے روز ایک بار پھر ہندوپاک افواج کے مابین شدید لڑائی چھڑ گئی جس دوران دونوں ممالک کی افواج نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں سرحدی آباد سماعت شکن دھماکوں کی آوازوں سے خوفزدہ ہوگئیں ۔ادھر دفاعی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہندوپاک سرحدوں پر کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے گزشتہ روز ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں ہندوپاک افواج کے مابین گولہ باری ہوئی جبکہ آج جمعہ کے روز صوبہ جموں کے راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہندوستان اور پاکستانی فوج نے ایک بار پھر ایک دوسرے کی چوکیوں کو نشانہ بناکرجدید ترین ہتھیاروں کااستعمال کیا جبکہ دونوں جانب مورٹار گولے بھی داغے گئے ۔ اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں جانب جدید جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے سماعت شکن آوازوں کی وجہ سے سرحدی آبادی میں سخت خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر جمعہ کے روز ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ ہوا تاہم کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دفاعی ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی پر جمعہ کو پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔پاکستانی فوج نے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔پاکستانی فوج نے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی اہلکار حملے کا بھر پور جواب دے رہے ہیں تاہم فی الوقت کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے دوران اب تک بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر طرفین کے مابین گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے زائد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔طرفین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے اور گذشتہ کچھ ماہ سے جاری کورونا وبا کے با وصف بھی سرحدیں لگاتار گرم ہیں جس سے آر پار کی سرحدی بستیوں کے لوگوں کا جینا مزید مشکل بن گیا ہے۔

Comments are closed.