سنگم مڑہامہ میں ماں بیٹی کی دریائے جہلم میں غر قابی؛بیٹی کی نعش کو باز یاب کرنے کیلئے فوج کے مارکو کمانڈوز کود پڑے

سرینگر/18جون: مڑہامہ سنگم بجبہاڑہ میں منگل کو ماں بیٹی کے دریائے جہلم میں غر قآب ہونے کے بعد تیسرے روز بھی بچائو آپریشن جاری رہا تاہم بیٹی کی نعش ابھی تک باز یاب نہ ہو سکی ۔سی این آئی کے مطابق منگل کی شام دیر گئے مڑہامہ سنگم علاقے میں اس وقت قیامت صغری بپا ہوئی تھی جب دریائے جہلم میںماں بیٹی غر قآب ہوئی ۔ عین شاہدین کے مطابق سلیمہ بانو زوجہ غلا م حسن ڈار دریائے جہلم کے کنارے کپڑے دھو رہی تھی جبکہ اس کی بارہ سالہ بیٹی نگہت جان شدید گرمی کی لہر سے راحت پانے کیلئے ماں کے نزدیکی ہی دریائے جہلم میں نہا رہی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ماں پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب اسکی بارہ سالہ بیٹی نہاتے بہاتے دریا میں ڈھوب گئے اور بیٹی کو ڈھوبتے دکھا کر ماں سے رہا نہیں گیا اور اس نے بھی بیٹی کو بچانے کیلئے دریا میں چھلانگ لگائی جس کے ساتھ ہی دونوں ماں بیٹی دریا جہلم میںغر قآب ہوئی ۔ ماں بیٹی کے غر قاب ہونے کی خبر جونہی پھیل گئی تو مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اور پولیس و ایس ڈی آر ایف کے اہلکار جائے واردات پر پہنچ گئے جنہوں نے دونوں ماں بیٹی کو باز یاب کرنے کیلئے کارروائی شروع کر دی تاہم منگل کی شام دیر گئے تک صرف ماں کی نعش بر آمد ہو سکی اور بیٹی کو باز یاب کرنے کیلئے جمعرات کو تیسرے روز بھی بچائو آپریشن جاری رہا تاہم ابھی تک اس کو کوئی اتہ پتہ نہ مل سکا ۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دریائے جہلم میں تیسرے روز بھی بچائو کارورئیاں جاری رہی ۔ انہوںنے بتایا کہ ماں کی نعش منگل کی شام دیر گئے ہی بر آمد کر لی گئی تھی تاہم ابھی تک بیٹی باز یاب نہیں ہو سکی ۔ انہوںنے بتایا کہ پولیس ، ایس ڈی آر ایف اور سیول انتظامیہ کی جانب سے بچائو کارروائیاںجاری ہے اور آج فوج کی خصوصی مارکو ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے ۔

Comments are closed.