نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹر ی علی محمد ساگر پر عائد پی ایس اے کالعدم

دس ماہ کے طویل عرصے کے بعد رہائی پاکر گھر پہنچ گئے ، عمر نے کیا خیر مقدم

سرینگر / 17جون: عدالت عالیہ کی جانب سے نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد ان کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔ جس کے بعد علی محمد ساگر دس ماہ بعد اپنے گھر پہنچ گئے ۔ سی این آئی کے مطابق گزشتہ سال ماہ اگست میں جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کے ساتھ ہی دیگر سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ علی محمد ساگر کو بھی نظر بند کیا گیا جس کے بعد ان پر پی ایس اے کا اطلاق عمل میںلایا گیا ۔ جس کو عدالت عالیہ نے منگل کے روز کالعدم قرار دیا۔ اس سے قبل رواں ماہ کی 10 تاریخ کو عدالت نے معاملے کی سماعت مکمل کر کے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ ‘دونوں طرف کے وکیلوں کی دلائل سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ساگر کو زیر حراست رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے انتظامیہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان پر عائد پی ایس اے ہٹا دیا جائے۔رواں ماہ کی 10 تاریخ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران سرکاری وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بی اے ڈار نے ساگر کو حراست میں لیے جانے کے متعلق تمام دستاویز پیش کیں۔ جن پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ساگر کے وکیل شجاع الحق نے دعوی کیا کہ ساگر پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہے اور جن کا ان کے موکل کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شجاع نے دعوی کیا کہ ‘ساگر کو گذشتہ برس گست سے حراست میں رکھا گیا ہے اور رواں برس کی پانچ فروری کو ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔’عدالت نے دونوں طرف کے وکیلوں کی دلیل سننے کے بعد اپنے فیصلے کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر پر عائد پی ایس اے کو کالعدم قرار دینے کے بعد بدھ کو اسے دس ماہ کے طویل عرصہ کے بعد رہا کیا گیا ۔

Comments are closed.