سرینگر/15جون/سی این آئی// ضلع اننت ناگ اور کولگام میں انوکھی چوری کی وارداتیں رونماء ہورہی ہے ۔ زمینداروں کے کھیتوں نے دوران شب نامعلوم افراد پینری چراکر لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں زمیندار پریشان ہوچکے ہیں ۔ دوسری جانب برسوں بعد اب زمیندار اپنے ہاتھوں سے اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کیوں کہ کوروناوائرس کی وجہ سے بہاری اور دیگر غیر کشمیری مزدوروادی چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دھان کی پینری لگانے کا سیزن اگرچہ ایک طرف عروج پر ہے دوسری طرف پینری چوری بھی عروج پر ہے جس کی وجہ سے زمیندار پریشان ہوگئے ہیں ۔ ذرائع سے معلو م ہوا ہے کہ ہانجی دانتر ، میر دانتر، ملہ پورہ، ملورہ ، منواڑہ ، پشوارڑہ اور دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد دوران شب زمینداروں کے کھیتوں سے دھان کی پینری چراکر لے جاتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ دھان کی پینری کی چوری اگرچہ اپنی نوعیت کی انوکھی چوری ہے تاہم اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیری زمینداروں نے اپنے کھیت کھلیانوں میں برسوں بعد دوبارہ کام شروع کیا ہے کیوں کہ اکثر زمیندار اپنے کھیتوں کیلئے بہاری اور دیگر غیر کشمیری مزدوروں سے کام کرواتے تھے جو الف سے ے تک سبھی کام انجام دیتے تھے جس کے نتیجے میں کشمیری زمیندار آہستہ آہستہ اس کام سے انجام ہوتے گئے اب جبکہ بہاری مزدوروں کا پلائن ہوچکا ہے تو زمیندار اپنے کھیتوں میں خود ہی کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں نتیجتاً کھتوں میں کس مقدر تک پینیری لگانے ہے یہ بھول گئے ہیں اور سبھی زمینداروں نے یا تو زیادہ پینری اُگائی یا پھر کم ۔ ذرائع نے بتایا کہ قریب 2ہزار کنال ذرعی اراضی کیلئے پینری کی کمی ہوئی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو بازاروں میں بھی دستیاب نہیں ہے اسی لئے اب لوگ ایک دوسرے کے کھیتوں سے پینری چوری کرلیتے ہیں ۔ ( سی این آئی )
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.