کشمیر معاملہ پر بھارت کواپنے رویے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت / قریشی

راجناتھ سنگھ مظفر آباد کا دورہ کرکے خود دیکھ لیں کہ کشمیری ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں

سرینگر/15جون: پاکستان نے زور دیا ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنے رویے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔اسی دوران پاکستان نے کشمیراورپاکستانی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھارتی وزیردفاع کے بیان کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے یکسرمسترد کردیاہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کے عزائم کو بے نقاب کرنے کیلئے بہت ذریعے اور طریقے ہیں جن کا انتخاب وہ اپنی ترجیحات کے مطابق کرے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی رکنیت کے حصول کیلئے مخصوص طریق کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا رکن بننے کے خواہشمند ملکوں کو کئی سال تک راہ ہموار کرنا ہوتی ہے اور ہر ملک کو اس کا استحقاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کو سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے طویل طریق کار پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے اور پاکستان بھی رکنیت کیلئے راہ ہموار کررہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہم سفارتی آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی وضع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سات بار سلامتی کونسل کے رکن رہ چکے ہیں۔راجناتھ سنگھ کے بیان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئیں اور مظفر آباد کا دورہ کریں اور خود دیکھ لیں کہ آیا کشمیری ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں یا وزیراعظم عمران خان کو سرینگر مدعو کیا جاسکتا ہے تاکہ دیکھا جاسکے کتنے لوگ انہیں سننا چاہتے ہیں۔ ادھر پاکستانی دفترخارجہ کے مطابق بھارتی وزیردفاع کابیان پاکستانی زیر انتظام کشمیرکے بارے میں بی جے پی حکومت کی غلط فہمیوں اور پاکستان مخالف کارورائی کاایک اورثبوت ہے۔۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کی حالت زار کے خلاف آوازبلند کرتا رہے گا اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا جس کاوعدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی کیاگیاہے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام کشمیریوں کو منصفانہ اورغیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اْن کاحق دیاجائے۔

Comments are closed.