پہلگام کی گجر بستی واحد ایسا علاقہ جہاں اسپتال ہے نہ کیمسٹ کی دکان

ایمرجنسی کے دوران مریضوں کو گھوڑوں پر یا کندھوں پر اٹھا کر طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے

سرینگر/15جون: جنوبی ضلع اننت ناگ سے محض 30 کلو میٹر دور ڑیروارڈ علاقے کی گجر بستی میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ اسپتال یا طبی مرکز تو دور ان کے علاقے میں نجی دوا کی دکان بھی موجود نہیں ہے۔جس کے باعث علاقے کے لوگوں کو علاج و معالجہ کیلئے ضلع ہیڈ کواٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ترقی کے اس دور میں بھی جنوبی ضلع اننت ناگ کے کئی دور افتاد علاقوں میں رہائش پذیر گجر طبقہ سے وابستہ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور وہاں ضروری ساز و سامان کی عدم دستیابی کے باعث انہیں کافی پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان علاقوں میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث انہیں گھوڑوں پر ہی مریضوں کو طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے۔جبکہ ضلع اننت ناگ میں کئی طبی مراکز غیر فعال ہونے کی وجہ سے گجر طبقے سے وابستہ افراد کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام کے ڑیروارڈ علاقے میں طبی مرکز تو در کنار ایک کیمسٹ کی دکان بھی موجود نہیں جس سے اس علاقے کی کثیر آبادی کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڑیروارڈ کی آبادی نے انکے علاقے میں موجود طبی مراکز کو فعال بنانے کے علاوہ ایک کیمسٹ کی دکان کھولے جان کا مطالبہ کیا ہے۔سمیر احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بیمار ہمشیرہ کے ہمراہ گھوڑے پر 4کلومیٹر کا سفر طے کرکے ایک کیمسٹ کی دکان پر ملاحظے کے لیے پہنچے ہیں کیونکہ انکے علاقے میں طبی مرکز لاک ڈائون کے ایام میں فعال نہیں اور ضلع اسپتال 30کلومیٹر دور ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انکے علاقے میں طبی سہولیات کا پوری طرح فقدان ہے کیونکہ ایمرجنسی کے دوران انہیں مریضوں کو گھوڑوں پر یا کندھوں پر اٹھا کر طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے۔

Comments are closed.