جموں کشمیر کی صحافت کے 2تابناک ستارے جو آج ہمارے بیچ نہیں؛صحافتی میدان اور صحافیوں کیلئے ان کی خدمات مشعل راہ ہے
سرینگر/14جون/سی این آئی// جموں کشمیر کے 2تابناک صحافیوں مرحوم خواجہ ثناء اللہ بانی روزنامہ آفتاب اورمرحوم صوفی غلام محمد بٹ بانی سرینگر ٹائمز نے جموں کشمیر باالخصوص وادی کشمیر میں صحافت کی داغ بیل ڈالی اور جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی عوامی مسائل کو ارباب اقتدار تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا جبکہ اردو زبان کی آبیاری اور اس کو زندہ رکھنے میں اہم رول اداکیا ہے ۔ مرحومین کی قوم کے تئیں صحافتی خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی جبکہ انہوں نے جموں کشمیر میں صحافیوں کیلئے نقوش چھوڑے ہیں جن پر چل کر آج کے صحافی خاص صحافتی میدان میں کامیابی کے جھنڈے گھاڑسکتے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر کی صحافت کے دو چمکتے ستارے مرحوم خواجہ ثناء اللہ بانی روزنامہ آفتاباورمرحوم صوفی غلام محمد بٹ بانی سرینگر ٹائمز نے جموں کشمیر باالخصوص وادی کشمیر کیلئے جو کام کئے ہیں ان کو تواریخ دان کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات کو عوام نے بار بار سراہا ہے جبکہ حکومت سطح پر بھی مرحومین کی بیباک صحافت کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ خواجہ ثناء اللہ بٹ نے روزنامہ آفتاب کو جس بلندی پر پہنچادیا ہے وہ قابل فخر ہے ۔ روزنامہ آفتاب اگر لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے تو دوسری طرف سرینگر ٹائمز آج بھی جموں کشمیر کے لوگوں کے دلوںمیں بسا ہوا ہے ۔ سرینگر ٹائمز کے بانی صوفی غلام محمد اور خواجہ ثناء اللہ نے جموں کشمیر میں صحافت کو ایک طرہ دی ہے جو آج کے صحافیوں کیلئے ایک راہ نقش ہے جس پر چل کر نوجوان صحافی اس میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑدیں گے ۔ خبررساں ادارہ سی این آئی بھی مرحومین کے نقش قدم پر چل کر بیباک صحافت اپناکر قوم کی خدمت میں جٹ گئی ہے اور لوگوں تک حقیقت پر مبنی خبریں پہنچانے کا کام کررہی ہے ۔ مرحومین نے نہ صرف جموں کشمیر میں صحافت کو آسمان پر پہنچادیا بلکہ اردو زبان کو بھی زندہ رکھنے میں ایک اہم رول اداکیا ہے ۔ رونامہ آفتا ب اور روزنامہ سرینگر ٹائمز کی جانب سے اردو زبان کی ترویج اور ترقی کیلئے کام قابل فخر اور قابل سراہنا ہے ۔ کشمیری عوام ان دو مرحومین بیباک صحافیوں کے کام اور اردو کے تئیں خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے مشکل سے مشکل حالات میں بھی لوگوں تک حقیقت پر مبنی خبریں پہنچانے اور سرکار کو عوامی مشکلات سے آگاہ کرنے کا کام جاری رکھا ۔ مرحومین کی اردو زبان کی خدمات اور صحافتی میدان میں کارناموں پر جتنا بھی لکھا جائے وہ کم ہے کتابیں بن جائیں گی لیکن مرحومین کے کام کا تذکرہ ختم نہیں ہوگا۔
Comments are closed.