کشمیری پنڈتوں اور پُر اعتماد مسلمانوں کو ہتھیارفراہم کرنے میں کوئی قباحت نہیں / ایس پی وید
پولیس اور فوج کے کامیاب آپریشنوں سے وادی میں ملٹنسی قریب قریب ختم ہوئی
سرینگر/13جون/: جموں کشمیر کے سابق پولیس چیف نے کہا ہے کہ کشمیری ہندوئوں اورپُراعتماد مسلمانوں کو اسلحہ کی تربیت فراہم کرنا اور انہیں اپنی حفاظت کیلئے ہتھیار فراہم کیا جانا چاہئے ۔اقلیتی پنڈت برادری کے لوگوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لئے تمام تر ممکنہ اقدامات کو اُٹھانا چاہئے اور انہیں اسلحہ اور اس کی تربیت فراہم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ اس اقدام سے ان میں احساس تحفظ پیدا ہوگا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ضلع اننت ناگ میں ایک کشمیری پنڈت سرپنچ کی نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں موت پر مختلف جماعتوں کی جانب سے رد عمل ظاہر کیا جارہا ہے ۔ اس دوران جموں کشمیر پولیس کے سابق پولیس چیف ایس پی وید نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں اقلیتی طبقہ سے وابستہ کشمیری ہندئوں اور پُراعتماد مسلم طبقہ جن کو ملٹنٹوں کے زریعے خطرہ لاحق ہے کو ہتھیاروں کی تربیت اور اسلحہ فراہم کیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکیں ۔ سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے وادی کشمیر میں ہندو پنڈتوں اور اْن مسلمانوں جنہیں بقول ان کے خطرات لاحق ہیں، کو اسلحہ اور ان کی تربیت فراہم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ خطرے میں ہیں انہیں ذاتی تحفظ کے لئے اسلحہ فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے تاکہ ان میں احساس تحفظ پیدا کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر، پنڈتوں کے بغیر نامکمل ہے اور مسلمانوں کی وسیع اکثریت ان کی وطن واپسی کا خیر مقدم کرتی ہے۔تاہم وادی میں پاکستان کی شہہ پر کام کررہے چند جنگجوتنظیمیں کشمیری ہندئوں کی واپس کی مخالفت کررہی ہے جس کی وجہ سے انہیں خطرہ محسوس ہورہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر میں پولیس اور فوج کے باہمی اشتراک سے کامیاب جنگجو مخالف آپریشن سے ملٹنسی کا خاتمہ کافی حد تک ہوچکا ہے تاہم اکا دکا ہتھیار بند ملیٹنٹ اب بھی امن و سلامتی کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ موصوف سابق پولیس سربراہ نے یہاں اپنی رہائش گاہ پر ایک نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘اقلیتی پنڈت برادری کے لوگوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لئے تمام تر آپشنز کو تلاشا جانا چاہئے اور انہیں اسلحہ اور اس کی تربیت فراہم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ مسلمان طبقوں میں سے بھی جن کو خطرات لاحق ہیں، انہیں بھی اسلحہ فراہم کیا جانا چاہئے۔
Comments are closed.