بلڈ پریشر کی ادویات سے کووڈ 19کا کوئی خطرہ نہیں : ڈاک

مریض اپنی ادویات متواتر لیتے رہیں تاکہ دل کا دورہ اور سٹروک سے بچاجاسکے

سرینگر/یکم جون: ڈاکٹرس ایسوسی ایش کشمیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پلڈ پریشر کی ادویات سے کوروناوائرس میں مبتلاء ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور ناہی اس دوائی سے انفکشن میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثاارلحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوروناوائرس کی وباء کے بیچ بلڈ پریشر کی ادویات لینا بلکل محفوظ ہے اور اس دوائی سے مریض کو کووڈ19انفکشن کا خطرہ نہیں بڑھ سکتا ۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ ACEاور ARBsادویات سے کوروناوائرس کا انفکشن بڑھ سکتا ہے اور اس سے کوروناوائرس کی وجہ سے موت بھی ہوسکتی ہے انہوںنے ان خدشات کودور کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلڈ پریشر کی ادویات بلکل محفوظ ہے ۔انہوںنے کہا کہ ’’ACEبشمولenalapril, lisinopril, captoprilاور دیگر ادویات جن میں Telmisartan, olmesartan,Losartanاور دیگر جنرک دویات جن کے آخر پر sartanآتا ہے باالکل محفوظ ہے ۔ انہوں نے ایک مشاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کہیں بھر بھی واضح نہیں ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کی ادویات سے کووڈ 19کا انفکشن بڑھ گیا ہو یا اس کاخطرہ پیدا ہوا ہو۔ انہوںنے کہا ہے کہ مذکورہ ادویات لینے والے مریضوں میں انفکشن کا خطرہ بڑھنے کا کوئی بھی واقع ابھی تک پیش نہیں آنا جبکہ کوروناوائرس میں مبتلاء مریضوں کے لنگس انفکشن کو یہ ادوات کم کرسکتی ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ اپنا بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھینے کی ہمیشہ کوشش کریں اور تفویض کردہ ادویات کا استعمال بلاناغہ کرتے رہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کووڈ 19کے وائرس سے ازجان بھی ہوسکتے ہیں اسلئے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا انتہائی لازمی ہے ۔ انہوںنے لوگوں کو صلاح دی ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کیلئے جو انہیں اپنے معالجین نے ادویات تفویض کی ہے اس کو لیتے رہیں کیوں کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہارٹ اٹیک، کڈنی فیلیئر اور سٹروک کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔

Comments are closed.