سرینگر/18مئی: کمشنر سیکریٹری تعلیم اصغر سامون نے سوشل میڈیا پر اس بات پر حیرت اور افسوس کااظہار کیا ہے کہ سرکاری سکولوںمیں موٹی موٹی تنخواہیں حاصل کرنے والے اساتذہ کے بچے سرکاری سکولوں کے بجائے پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرکاری سکولوں میں تعینات سرکاری اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرتے ہیں جس پر کمشنر سیکریٹری تعلیم اصغر سامون نے حیرت کااظہار کیا ہے ۔ سوشل میڈیا کے اپنے ٹیوٹ اکاونٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے اصغر سامون نے لکھا ہے کہ میں یہ جان کر حیران ہورہا ہوں کہ سرکاری سکولوں میں بہتر تعلیمی معیار ہونے کا دعویٰ کرنے والے اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں داخل کرتے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ جو سرکاری خزانے سے اچھی خاصی تنخواہیں وصول کرتے ہیں اپنے خود کے بچوں کو سرکاری سکولوں سے دو ر رکھ رہے ہیں جبکہ ہم اس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار پرائیویٹ سکولوں سے کافی بلند ہے کیوں کہ سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیںاس کے علاوہ ان کے پاس کافی تجربہ بھی ہوتا ہے اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں میں کم تعلیم یافتہ افراد ہی کم تنخواہوں پر کام کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ وادی میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی ہمیشہ مایوس کن رہی ہے اور سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچے میٹرک میں کوئی بہتر کارکردگی دکھانے سے قاصر رہتے ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کافی فکر مند رہتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی ہمیشہ میڈیا کیلئے بھی بحث کا موضوع رہی ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.