وادی میں کوروناوائرس20سے 60برس عمر والے اشخاص میں؛ شرح اموات 1.011فیصدی جن میں سے زیادہ تر مرد مریضوں کی موت ہوئی۔ ڈاک

سرینگر/17مئی : ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کوروناوائرس کے معاملات میں درمیانہ درجے سے چھوٹے عمر تک کے اشخاص میں پایا گیا ہے ۔ 75فیصدی مریضوں کی عمر 20سے 60برس تک دیکھی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اتوار کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کووڈ 19کے مریضوں کی 75فیصدی مریضوں کی عمر 20سے 60برس کے درمیان دیکھی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی 989’’لبیارٹریوں ‘‘تشخیصی مراکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 74سے 72فیصدی مریضوں کی عمر 20برس سے 60برس ہے ۔ جن میں 278معاملات میں 28.10فیصدی مریضوں کی عمر 20سے 30برس کے درمیان ہے ۔ 179معامالت میں 18.09فیصدی مریضوں کی عمر 30سے 39فیصدی ہے ۔ 149کیسوں میں 15.06فیصدی مریضوں کی عمر 40سے 49برس دیکھی گئی ہے اسی طرح 133کووڈ 19کے معاملوں میں 13.44فیصدی مریضوں کی عمر 50برس سے 60برس دیکھی گئی ہے ۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہWHOکی رپورٹ کے تحت کوروناوائرس کے کیسوں میں محض 2.4فیصدی ہی 19برس تک کے عمر افراد بیماری میں مبتلاء ہے تاہم وادی کشمیر میں اس عمر کے 171معاملات یعنی 17.29فیصدی مریض اس عمر کے مریض ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اس کے علاوہ جنسی تفاوت بھی کووڈ 19کیسوںمیں دیکھا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 989کیسوں میں سے 597معاملات یعنی 60.36فیصدی کیسوں میں مرد ہے جبکہ 391معماملات یعنی 39.53کیسوں میں خواتین مریض ہے اور 21حاملہ خواتین کو بھی کووڈ 19سے متاثر پایا گیا ہے جبکہ ایک 8ماہ کا بچہ بھی کوروناوائر س سے متاثر پایا گیا ہے جو کہ وادی میں کووڈ 19معامالت میں سب سے کم عمر والا کیس ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی آبادی کے تناسب سے وادی کشمیر ملک میں سب سے زیادہ کوروناوائرس کے کیس ہے یعنی جس قدر بھارت کی مختلف ریاستوں کی آبادی ہے اس حساب سے وادی کی آبادی میں زیادہ کیس ہے تاہم وادی میں کوروناوائرس کی اموات شرح 1.011ہے جوکہ نیشنل تناسب 3.15سے کافی کم ہے ۔ وادی میں 10مریض وائرس سے فوت ہوئے ہیں جن میں سے 8مرد اور دو خواتین تھیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق وادی میں موجودہ مثبت کیسوں کی شرح فیصدی 2.2ہے جبکہ 48.7فیصدی مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے ۔

Comments are closed.