سرینگر/15مئی:کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے کئے جارہے اقدامات پر ہونے والے خرچہ میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی جارہی ہے جبکہ ماسکوں کی خریداری، سینٹائزر وں اور سینی ٹائزر ٹینلوں پر کئے جارہے خرچ کیلئے جعلی بلیں بنائی جارہی ہے جس میں مختلف سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران بھی ملوث ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کووڈ19کا مقابلہ کرنے کیلئے مختص سرکاری رقومات کی بندر بانٹ کی جارہی ہے اور سینی ٹائزیشن ، ماسکوں اور دیگر کاموں پر کئے جارہے خرچہ کو دس گنا زیادہ دکھایا جارہا ہے اور سرکاری خزانہ کو سرکاری ملازمین ، افسران اور دیگر متعلقین دو دوہاتھوں لوٹنے میں مصروف ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ماسکوں کی خریداری، سینی ٹائزروں کی خریداری اور کورنٹائن میں رکھے جارہے افراد پر آنے والے خرچہ کو دس گناء زیادہ دکھایا جارہا ہے جس کے باعث سرکاری خزانہ کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا جارہا ہے ۔ اس خرد بُرد میں بڑے افسران کے ساتھ ساتھ چھوٹے ملازمین بھی شامل ہیں جو کوروناوائرس کی آڑ میں رقومات کی بندر بانٹ کرنے میں مصروف ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مختلف سرکاری اداروں کے بڑے افسران بڑے پیمانے پر جبکہ چھوٹے ملازمین چھوٹے پیمانے پر خرد بُرد انجام دے رہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ باہر نے آنے والے افراد جن کو کورنٹائن میں رکھا جارہا ہے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ انہیں یہاں کھانے پینے کی کوئی بہتر سہولیات نہیں ہے اور کھانے میں صبح و شام چاول اور دال یا کوئی سبزی دی جارہی ہے جبکہ چائے ایک وقت فراہم کی جارہی ہے لیکن سرکاری طور پر کورنٹائن میں رکھے گئے افراد کو بہتر کھانے پینے کی سہولیات کے علاوہ دیگرچیزیں بھی فراہم کئے جانے کا دعویٰ کرتے ہیںتاہم بیچ میں جو اس کام پر عملہ معمور ہے یا جو بڑے عہدیدار اس کام کی نگرانی کرتے ہیں وہ بڑے پیمانے پرخرد برد میں ملوث ہیں ۔ یاد رہے کہ مرکزی سرکاری کی جانب سے کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے یوٹیز اور ریاستوں کو عربوں روپے کا پیکیج دیاجارہا ہے تاہم وادی کشمیر میں اس پیکیج کا محض چوتھا حصہ ہی اس پر خرچ کیا جارہا ہے جبکہ دیگر رقم کی اُوپر سے نیچے کے ملازمین بندر بانٹ کرتے رہتے ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.