وبائی بیماری کے پھیلائو کے بیچ جموں کشمیر میں ماہ جون کے پہلے ہفتے سے اسکول کھولنے کا مکان
کوئی مارننگ اسمبلی نہیں ہو گی ، کلاسز کا انعقاد مراحلہ وار بنیادوں پر ہوگا ، سماجی دور ی لازمی ہو گی
سرینگر/12 مئی: عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے پھیلائو کے بیچ جموں کشمیر سرکار نے تعلیمی اداے کھولنے کا من بنایا لیا ہے اور ممکنہ طور پر جون کے پہلے ہفتے سے اسکولوں میں درس و تدریس کا کام دوربارہ بحال ہوگا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسکولوں میںکسی قسم کی مارننگ اسمبلی نہیں ہو گی جبکہ کلاسوں کا انعقاد مراحلہ وار طریقوں میں کیا جائے گا ۔ سی این آئی کے مطابق وبائی بیماری کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ بچوں کو تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کیلئے جموں کشمیر حکومت نے ماہ جون کے پہلے ہفتے سے اسکولوں میں درس و تدریس کا کام بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ محکمہ اسکولی تعلیم کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسین سامون نے ایک مقامی روزنامہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسکولوں میں صفائی اور سنٹائزیشن مہم کا کام جاری ہے اور یہ واضح ہدایت دی گئی ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک اس کام کو مکمل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ بچوں کا تعلیمی سال بچانے کیلئے ماہ جون کے پہلے ہفتے سے اسکولوں میں درس و تدریس کا کام شروع کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کے کھلنے تک آن لائن اور ٹیلی کلاسز جاری رہیں گے جبکہ بچوں کو وہ تمام میٹریل فراہم کیا گیا ہے جس کی ان کو ضرورت تھی ۔ انہوںنے کہا کہ بچوں میں 60ہزار کتابیں تقسیم کرنے کے علاوہ 12سو ٹیبلٹ بھی تقسیم کئے گئے جن میں آف لائن ویڈیو موجود تھے اور جن سے بچوں نے گھروں پر ہی تعلیم حاصل کر لی ۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی میںمحکمہ اسکولی تعلیم کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس میں انہوں نے واضح ہدایت جاری کئے تھے کہ اسکولوں کو کھولنے سے قبل ا ن کی مکمل سنٹائزیشن کی جائے ۔ ادھر سی این آئی کو معلوم ہوا ہے کہ ماہ جون کے پہلے ہفتے سے اسکول کھولنے کیلئے محکمہ اسکولی تعلیم نے منصوبہ تیار کر لیا ہے اور جس دوران اسکولوں کو مراحل وار طریقوں میں کھولنے کے علاوہ کلاسز بھی مراحلہ میں منعقد کرائے جا ئیں گے جبکہ ا س کے علاوہ اسکولوںمیں سماجی دوری کے ساتھ بچوں کے صحت کے حوالے سے بھی تمام تر اقدامات اٹھائیںجائے گی ۔
Comments are closed.