کوڈ19کے مریض کی نعش سے کوروناوائر س نہیں پھیلتا ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن
پروٹوکول پر عمل پیرا ہوکر مذہبی اور سماجی طریقہ کار کے مطابق آخری رسومات اداکرنے کی اجازت دی جائے
سرینگر/29اپریل: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے مریض کی موت کے بعد اس کی نعش سے وائرس نہیں پھیلتا کیوں کہ وائرس مریض کے کھانسنے یا چھینکنے کے دورا ن منہ سے نکلنے والی ’’واٹر آوٹ لیٹس ‘‘سے پھیلتا ہے تاہم مردہ نہ کھانسی کرسکتا ہے اور ناہی مردہ جسم سے چھینک نکلتی ہے اسلئے مردہ جسم سے وائرس دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوسکتا ۔ کووڈ 19کے مریضوں کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات مذہبی اور سماجی طریقہ کار کے مطابق انجام دینے کی اجازت دی جانی چاہئے تاہم اس دوران سرکاری اور محکمہ ہیلتھ کی ایڈوائزری اور پروٹوکول کے تحت سب کام انجام دئے جانے چاہئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کووڈ 19کے مریضوں کی موت کے بعد ان سے وائرس دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس طرح کی کوئی شہادت نہیں ملی ہے کہ کسی مردہ انسان سے زندہ انسان میں یہ وائرس منتقل ہوگیا ہو۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ایک مردہ انسان نہ تو کھانس سکتا ہے اور ناہی اس کے جسم سے چھینک نکل سکتی ہے اور یہ وائرس ایک مردہ جسم میں زندہ نہیں رہ سکتا ۔ وائرس زندہ انسان کے جسم میں پنپتا ہے تاہم جب یہ کسی بے جان چیز پر لگ جاتا ہے تو اس کی عمر ختم ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک مریض کے گھر والوں اور ہیلتھ کیر ورکروں کو پروٹوکول کے تحت آخری رسومات اداکرنے کی اجازت دی جائے چاہئے اور اس بات کی تشویش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مردہ جسم سے دوسرے انسان میں وائرس متنقل ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نعش کو اُٹھانے والے اور لے جانے والے ہیلتھ ورکروں کو PPEکا استعمال کرنے کے بعد نعش اُٹھانی چاہئے جبکہ مہلوک کے رشتہ داروں کو بھی بنیادی تحفظی لباس لگاکر آخری رسومات اداکرنے چاہئے اور آخری رسومات اداکرنے کے دوران بھیڑ بھاڑ سے بچنا چاہئے جبکہ نماز جنازہ اداکرنے کے دوران بھی سوشل دوری کو برقراررکھنا چاہئے تاہم مذہبی احکامات کے مطابق کووڈ 19سے مرنے والے کی نماز جنازہ اداکرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کے مطابق مرنے والے کے کپڑوں اور دیگر چیزوں کو جلانے اور دفنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ اچھی طرح صابن سے دھونے ہی کافی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نعش کو سپرد لحد کرنے سے پہلے قریبی رشتہ دار اور عزیز و اقارب مردہ کا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں تاہم اس کیلئے بھی دوری برقراررکھنی ضروری ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے بیان میں سرکاری انتظامیہ پر بھی زور دیا ہے کہ کوروناوائرس سے مرنے والوں کے رشتہ داروں کو میت کا جنازہ اداکرنے اور مذہبی اور سماجی طور طریقوں کے مطابق آخری رسومات اداکرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاہم پروٹوکول کو بھی دھیان میں رکھنا لازمی ہے اور نماز جنازہ کیلئے بھیڑ کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ کوئی پریشانی نہ اُٹھانے پڑے۔انہوںنے کہا کہ انتظامیہ کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر ضابطے اور قواعد کی پاسداری ہوتی ہو تو میت کے لواحقین کو مذہبی طریقے سے آخری رسومات اداکرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔
Comments are closed.