مہلورہ شوپیان میں 20گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ اختتام پذیر ، 3جنگجو جاں بحق
طرفین کے مابین گولی باری میں فوجی میجر اور خاتون سمیت چار افراد زخمی ، رہائشی مکان زمین بوس، دو کو شدید نقصان
علاقے میں پر تشدد جھڑپیں ، پتھرائو ،جوابی پتھرائو ، ٹیر گیش شلنگ ، کئی اتجاجی مظاہرین زخمی
سرینگر/29اپریل/سی این آئی// جنوبی ضلع شوپیان کے مہلورہ علاقے میں قریب 20گھنٹوں بعد فوج و فورسز اور جنگجوئوںکے مابین مسلح تصادم آرائی میں تین جنگجو جاں بحق ہو ئے جبکہ طرفین کے مابین گولی باری میں فوجی میجر اور خاتون سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ۔جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان زمین بوس جبکہ دو دیگر کو شدید نقصان پہنچ گیا۔ جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی جبکہ مہلورہ علاقے میں جھرپ کے مقام پھر دن بھر فورسز اور نوجوانوں کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مہلورہ زینہ پورہ شوپیان کے کوکا محلہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کے بعد دوپہر فوج کے 55آر آر ، ایس او جی شوپیان ، سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ طور پر علاقے کا محاصرہ شروع کرکے تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی فورسز نے علاقے میں تلاشی کارورائی شروع کی تو وہاں موجود جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع کے مطابق گولیوں کی گن گرج سے لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے جبکہ ابتدائی فائرنگ میں ایک جنگجو کے جاں بحق ہونے کے بعد اس دو ساتھی نے نزدیکی ماکان میں پنا ہ لی ۔جبکہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں خاتون اور فوجی اہلکار زخمی ہو گیا جن کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان قریب ایک گھنٹے تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہاجس کے بعد علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا اور اندھیرا ہونے کے پیش نظر فورسز نے علاقے میں روشنی کے آلات نصب کئے جبکہ پورے علاقے کو سیل کرکے جنگجوئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے گئے ۔ اسی دوران علاقے میں فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی جبکہ رات بھر اندھیرا چھا جانے کے باعث آپریشن صبح تک ملتوی کر دیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ سحری کے اوقات علاقے میںاس وقت گولیوں کی گن گرج دوبارہ شروع ہوئی فورسز نے آپر یشن دوبارہ شروع کرتے ہوئے جنگجوئوں کے خلاف کارروائی شروع کی اور بدھ کے صبح گیارہ بجے تک علاقے میں دونوں اطراف سے گولیوں کو تبادلہ جاری رہا جس دوران فورسز نے اس مکان جس میں جنگجوئوں چھپے بیٹھے تھے کو بادوری سرنگ سے اڑا دیا جس کے بعد ملبے کے نیچے سے تلاشی کارورائی کے دوران مزید دو جنگجوئوں کی نعشیںبر آمد کی گئی اور اس طرح سے 20گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں کل ملا کر 3جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی بدھ کی صبح ملبے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہاں موجود جنگجو نے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55آر آر کا فوجی میجر زخمی ہو گیا جس کو علاج و معالجہ کیلئے فوجی اسپتال سرینگر منتقل کر دیا گیا ۔ پولیس ترجمان نے علاقے میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میں تین عدم شناخت جنگجو ہلاک ہو گئے جن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کر لیا گیا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز نے مشترکہ طور پر مہلورہ زینہ پورہ شوپیان علاقے کو محاصرے میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کی ۔ بیان کے مطابق جونہی علاقے میں تلاشی شروع ہوئی تو جنگجوئوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔پولیس کے مطابق سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں تین جنگجوئوں ہلاک ہو گئے جن کی فوری طور پر شناخت نہ ہو سکی ۔اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے ساتھ ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ درجنوں کی تعداد میں نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر شدید سنگبازی کی جس دوران مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے لاٹھی چارج ، ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں دن بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں کئی نوجوان مضروب ہو گئے ۔ اسی دوران جھڑپ کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی ۔
Comments are closed.