وادی کی غیر یقینی صورتحال اور مسلسل خراب موسمی صورتحال ،سیب صنعت کو کافی خسارے کا سامنا

منڈیوں میں موجود سیب درجہ حرارت کی وجہ سے خراب ہونے لگے ، کولڈ سٹوریج میں ایک لاکھ ٹن سیب پڑا

سرینگر:وادی کشمیر میں نا مساعد حالات اور خراب موسمی صورتحال کے باعث سیب کی صنعت اب تک کے بدترین مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ گزشتہ سات ماہ سے کولڈ سٹوریج میں ایک لاکھ ٹن سیب پڑا ہے تاہم خراب موسمی صورتحال کے باعث درجہ حرارت میں کمی آنے کے باعث پورا مال خراب ہونے کو آیا ہے ۔ مال خراب ہونے کے خدشہ کے باعث میوہ صنعت سے وابستہ افراد فکر وتشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق گزشتہ سال ماہ اگست میں جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کے بعد وادی کشمیر میں مخدوش حالات اور مسلسل خراب موسمی صورتحال سیب کی صنعت بری طرح سے متاثر وئی ۔ جہاں خراب موسمی صورتحال کے باعث سیب کو نقصان ہو گیا وہیں خراب موسمی صورتحال اور لاک ڈاون کے باعث سیب کے کاشتکاروں اورتاجروں کو کولڈ سٹوریج میں ذخیرہ شدہ سیبوں کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے لیکن وہ کچھ نہیں کما رہے ہیں ۔ لسی پورہ پلوامہ ، ایگلر شوپیاں ، اور شمالی کشمیر کے کچھ علاقوں میں واقع کولڈ سٹوریج میں ایک لاکھ ٹن سیب پڑا ہے ۔ غیر موسمی برف باری ، موسم کی خرابی اور قومی شاہراہ کو بار بار بند رکھنے کی وجہ سے سیبوں کے کاشتکار نقصان برداشت کر رہے ۔ نئی دہلی میں مقیم ایک ایجنٹ انیل ;200;نند نے بتایا کہ حکومت ہ میں دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک صرف چار گھنٹے کے لئے دکانیں کھولنے کی اجازت دے رہی ہے ، لیکن خریدار نہیں ہیں ۔ ایک اور تاجر نے بتایا کہ جب کوئی خریدار نہیں ;200;تا تو پھل منڈی میں رہ جاتا ہے اور شدید درجہ حرارت اسے خراب کر دیتا ہے ۔ لاسی پورہ میں قائم کولڈ چینز کے مالک نے بتایا کہ سیب کا شعبہ اب تک کے بدترین مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ پچھلے سال ، شاہراہ کی بندش نے سیب کا کاروبار تباہ کردیا تھا اور اب یہ لاک ڈاون کر رہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کرایہ 15000روپے فی ٹرک ہوتا تھا ، لیکن ڈرائیور اب فی ٹرک 35000روپے لیتے ہیں ۔ تاجروں اور کاشتکاروں کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ سیب کو صرف سات مہینوں تک کولڈ سٹوریج میں محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ ایک تاجرعبدالحمید بٹ نے کہا ، یہ سات ماہ کا عرصہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے ۔ بٹ نے کہا کہ حکومت کی کوئی سکیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ریلیف ملنے کی امید نہیں ہے ۔

Comments are closed.