جعلی نوکری سکینڈل کا معاملہ :سرینگر سے تعلق رکھنے والا محکمہ صحت کا ملزم گرفتار
کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 19/2017کے سلسلے میں سیکشن 420، 467، 468، اور 471 کے تحت تلاشی کے ذریعے بھرتیوں کے دھوکہ دہی کے خلاف کریک ڈاو¿ن کو تیز کر دیا ہے جس دوران ملازم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔
گرفتار ملزم کی شناخت شاہنواز احمد میر ساکنہ ٹنکی پورہ شہید گنج سرینگر کے بطور ہوئی جو محکمہ صحت میں ایک سینئر اسسٹنٹ کے بطور تعینات ہے ۔ انہیں ہیلتھ ایجوکیٹر بھرتی گھوٹالہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروس کشمیر سے موصول ہونے والے ایک مواصلات سے شروع ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزہامہ بڈگام کے ایک بشیر احمد صوفی نے جعلی ٹرانسفر آرڈررس اور من گھڑت آخری تنخواہ کا سرٹیفکیٹ بنا کر ہیلتھ ایجوکیٹر کے طور پر اپنی تقرری کو دھوکہ دہی سے حاصل کیا تھا۔
تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے غیر قانونی طور پر بلاک شیری بارہمولہ میں سروس میں داخل ہو کر تنخواہ لی جس سے سرکاری خزانے کو غلط نقصان پہنچا۔
انہوںنے کہا کہ مزید تفتیش سے شاہنواز احمد میر کے اسی طرح کے متعدد معاملات میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جن کی تحقیقات جاری ہیں یا ان پر چارج شیٹ کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔
Comments are closed.