سری نگر۵۱،اپریل:سینئرٹریڈیونین لیڈراعجازاحمدخان نے وزیراعظم مودی سے جموں وکشمیر میں 4جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے بیرون ممالک اورمختلف ریاستوں میں درماندہ پڑے کشمیری طلاب اوردیگرافرادکی واپسی کاکوئی معقول بندوبست کرنے پربھی زوردیاہے ۔ ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹوکمیٹی کے چیئرمین اعجازخان نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ کوروناوائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے جاری ملک گیرلاک ڈاءون کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں کمسن ،نوعمر اورنوجوان طلباء و طالبات کاناقابل تلافی نقصان ہورہاہے ،اسلئے مرکزی حکومت کوچاہئے کہ وہ طالب علموں کے مستقبل کوبچانے اوراُنھیں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرے ۔ اعجاز خان نے کہاکہ عصرحاضر میں آن لائن کے ذریعے ہرکام گھر میں بیٹھے بیٹھے نپٹایاجاسکتاہے اورآن لائن کے ذریعے ہی آج کی دنیا میں تعلیمی وتحقیقی سرگرمیاں بھی جاری رکھی جاتی ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ کشمیر میں عام لوگ بالخصوص گھروں میں بیٹھے لاکھوں طلباء اور طالبات آن لائن سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاپارہے ہیں کیونکہ یہاں 2جی موبائل سروس فراہم کی جاتی ہے اوراس سروس کی بناء پرآن لائن کوئی کام انجام نہیں دیاجاسکتاہے ۔ ٹریڈیونین لیڈراعجازاحمدخان نے اپیل کی کہ کشمیری طلباء اور طالبات کے مستقبل کوبچانے اوردوران لاک ڈاءون اُنھیں حصول تعلیم میں مصروف رکھنے کیلئے یہاں بلاتاخیر4جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے ۔ انہوں نے اس ضمن میں وزیراعظم مودی سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم ہمیشہ بچوں اورنوجوانوں کی صلاحیتوں کونکھارنے پروزوردیتے آئے ہیں ،اورموصوف نئی پود اورنئی نسل کوہی ملک کامستقبل مانتے ہیں ،اسلئے ہ میں پوری اُمیدہے کہ وزیراعظم موجودہ صورتحال کے تناظر میں کشمیروادی میں 4 جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرانے میں اپنا اثرورسوخ برءوکار لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ زیرتعلیم بچوں ،بچیوں اورنوجوان طلباء وطالبات کاقیمتی وقت ضائع ہورہاہے اورگھروں میں بیٹھے بیٹھے نئی نسل کی صلاحیت ،قابلیت اورذہانت زنگ آلودہوتی جارہی ہے ،اورایسے میں اگرآن لائن ایجوکیشن کوممکن بنانے کیلئے فورجی انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی تویہ قیمتی اورانمول انسانی وسائل کوضائع کرنے کے مترادف ہوگا ۔ اعجازاحمدخان نے کہاکہ اگرکشمیر میں فورجی انٹرنیٹ سروس بحال کی جاتی ہے تویقینی طورپرمحکمہ تعلیم کے حکام ،پالیسی ساز اورجملہ مدرسین باہمی تال میل کے ساتھ تعلیمی ادارے بندہونے کے باعث گھروں میں بیٹھے لاکھوں طلباء اور طالبات کواپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ترغیب دیں گے ۔ ٹریڈیونین لیڈراعجازخان نے کہاکہ 2جی انٹرنیٹ سروس کے چلتے زیرتعلیم طلباء اور طالبات چاہ کربھی آن لائن سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کرپارہے ہیں ،کیونکہ ٹوجی سروس کی وجہ سے کسی بھی تعلیمی ویب ساءٹ پررسائی ممکن نہیں ہوپاتی ہے ۔ اپنے بیان میں ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹوکمیٹی کے چیئرمین اعجازخان نے مزیدکہاکہ لاک ڈاءون کی وجہ سے فضائی ،ریل اوردیگرٹرانسپورٹ سروس معطل رہنے کی وجہ سے ہزاروں کشمیری بیرون ممالک اورمختلف ریاستوں میں درماندہ پڑے ہیں ،جن میں ایسے سینکڑوں کشمیری نوجوان بھی ہیں جومختلف ممالک میں میڈیکل کورسز کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میڈیکل کورسزکررہے ایسے نوجوان کوکشمیرلانے کیلئے ہنگامی اقدامات اُٹھائے جائیں توایسے میڈیکل طلاب یہاں رضاکارانہ طورپر اسپتالوں میں کووڈ19کیخلاف جدوجہدکررہے ڈاکٹروں اوردیگرطبی ونیم طبی عملہ کاہاتھ بٹاسکتے ہیں ۔ اعجازخان نے ساتھ ہی کہاکہ مختلف ریاستوں میں درماندہ کشمیری طلاب ،تاجر ،ملازم اورمحنت کش سخت مشکلات کاسامناکررہے ہیں کیونکہ وہاں اُنھیں قیام وطعام اوردیگرلازمی سہولیات میسرنہیں ۔ انہوں نے وزیراعظم مودی ،وزیرداخلہ امت شاہ اورمرکزی سرکار کے دوسرے اعلیٰ ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ مختلف ریاستوں میں درماندہ پڑے کشمیریوں کولازمی سہولیات بہم رکھوانے میں اپنارول اداکریں ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.