سرینگر:بیرون ریاستوں میں درماندہ کشمیریوں کی وادی منتقلی کی وکالت کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بدھ کو لیفٹیننٹ گورنر جی ایس مرومو کے ساتھ معاملہ اٹھایا ۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے نظربندوں کے پی ایس ائے کی منسوخی کے فیصلے پر بھی سرکار کا خیر مقدم کیا ۔ جے کے این ایس کے مطابقجموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جی ایس مرمو سے دہلی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ سید الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کے پھنسے ہوئے لوگوں خصوصا ،طلباء،زائرین ، مزدوروں ، تاجروں اور مریضوں کو ، جو لاک ڈاءون کے نتیجے میں بھارت کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں ، کی منتقلی کے بارے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر مرمو نے مادھو پور پٹھان کوٹ اور لکھن پور میں داخلی پوائنٹس پر پھنسے ہوئے جموں و کشمیر کے شہریوں کی سہولت اور واپسی کی اجازت دینے کے لئے اصولی طورپر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تقریبا 4500افرادان پوئنٹس پر موجود ہیں جنہوں نے قرنطینہ کی مدت پوری کرنے اور کورونا وائرس کے لئے منفی جانچ کے باوجود ان پھنسے ہوئے ہیں ۔ بخاری نے مزید کہا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ اپنی گفتگو سے پر امید ہے کہ جموں و کشمیر کے ان تمام پھنسے رہائشیوں سمیت طلباء، زائرین کرام اور تاجروں کو اپنے گھر واپس آنے کی اجازت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر جی ایس مرمو نے بھی انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلے دو دن کے اندر ، حکومت جموں و کشمیر کہ ان شہریوں خصوصا طلباء اور زائرئن کو انخلاء میں بھی مدد فراہم کرے گی جو راجستھان اور امرتسر کے پنجاب میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا ’’ لیفٹیننٹ گورنر نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے باشندوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر واپسی کے لئے فون کے ذریعے انتظامیہ سے رابطہ کرکے اپنا اندراج کروائیں ۔ ‘‘بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ اپنے اثر رسوخ کو استعمال کریں تاکہ جموں و کشمیر کے تمام باشندوں خصوصا مزدوروں اور طلباء کو جو ملک کے مختلف ریاستوں اور شہروں جن میں دہلی ، اترپردیش ، راجستھان ، اتراکھنڈ ، جھارکھنڈ ، گوا ، کیرالہ ، ، ممبئی ، پنجاب ، ہریانہ ، کلکتہ ، بھوپال ، چنئی ، بنگلور اور ہماچل پردیش میں درماندہ ہے وہ جلد از جلد اپنے گھروں کو لوٹیں ۔ مزدوروں اور طلباء کے معاملے پر ، میں نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کہ کشمیر میں ربیع کی فصل کا موسم اور سیب کے کاشت کار بری طرح متاثر ہوں گے کیونکہ ضرورتمند مزدور اپنی نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں پھنس چکے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ پھنسے ہوئے بیشتر طلبا کا تعلق بھی کاشتکاری برادری سے ہے اور وہ اس سیزن میں اپنے کنبوں کے لئے مدد فراہم کرتے ہیں ،جبکہ لیفٹیننٹ گورنر نے انہیں یقین دلایا کہ ان کا دفتر معاملے کو ترجیح پر لے گا ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.