لاک ڈاون کے دوسرے مرحلے میں محاصرہ مزید تنگ؛ریڈ زون اور ممنوع علاقوں کی ڈرون لگے کیمروں سے نگرانی

28ویں روزبھی وادی کے اطراف و اکناف میں کورونا کرفیو سے سناٹا

سرینگر: لاک ڈاءون کے دوسرے مرحلے میں حکام کی جانب سے عائد شدہ بندشوں کو28ویں روز مزید سخت کیا گیا ہے جبکہ ریڈ زون والے علاقوں کی ناکہ بندی مزید سخت کی گئی ہے،اور آہنی سلاخون کے علاوہ ٹین کی چادروں کے علاوہ خار دار تاروں سے انہیں بند کیا گیا ۔ اس دوران ریڈ زون اور نقل و حرکت کے اعتبار سے ممنوع قرار دئیے گئے علاقوں کی نگرانی ڈرءون سے لگے ہوئے کیمرءوں سے کی گئی،جبکہ حکم امتنائی کی خلاف ورزی کرنے والے لوگون کے خلاف بدھ کو بھی پولیس کی طرف سے کاروائی جاری رہی ۔ جے کے این ایس کے مطابق وادی مےں جاری لاک ڈاءون سےول کرفیو کی شکل اختیار کرچکا ہے اور صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر لوگ بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہے ۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے سرےنگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں نافذ ہیں اور سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار لوگوں کو سڑکوں پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔ انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکمے متحرک ہیں اور بغیر ایمرجنسی کے کسی بھی شخص کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر عملانے پر بھی لوگوں سے سخت تلقین کی جارہی ہے ۔ حکومت کی طرف سے جن علاقوں کی ریڈ زونوں کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے،ان کا محاصرہ مزید سخت کیا گیا ہے اور داخلی و اخراجی راستوں کو بند کرکے نقل و حرکت مکمل طور پر بند کی گئی ہے ۔ بندشوں کے نتیجے میں 28وےں روز بھی ماتمی ماحول رہا جس دوران خوف ودہشت اور ماتم جےسے ماحول کے بےچ لوگ مسلسل گھر مےں محصور بنے ہوئے ہےں ۔ ریڈ زون والے علاقوں خاص کر سب سے زیادہ متاثر علاقوں میں ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا ۔ اگرچہ لاک ڈاون گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے ، تاہم پولیس نے لاک ڈاون پرمزید نظر رکھنے کیلئے ڈرون استعمال میں لایا اور ڈرون سے کھینچی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی لےں گئےں اسی طرح گنڈ جہا نگےر حاجن کے کچھ علاقوں سے بھی اطلاع ہے جہاں لاک ڈاءون کو ےقےنی بنانے کےلئے ٖڈروان کا استعمال کےاجار ہاہے ۔ شہر میں از خود اپنے علاقوں کو بند کرنے کے رجحان میں بھی تیزی آئی ہیں ۔ مقامی طور پر مساجدوں میں بھی لوڑ سپیکروں پر لوگوں کو گھروں تک ہی محدود رہنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں ۔ نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کی سربراہی والی میٹنگ کے دوران لاک ڈاءون کو مزید سخت کرنے کی تاکید کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ جن علاقوں کی نشاندہی ریڈ زون کے طور پر کی گئی ہے،ان میں کسی بھی شخص کو داخل یا باہر جانے کیا اجازت نہیں دی جائے گی ۔ نامہ نگار میر ارشد کے مطابق جنوبی کشمیر شانگس علاقے،جس مین گزشتہ روز کرونا وائرس مین مبتلا ایک مریض کی تصدیق ہوئی تھی، میں مکمل طور پر لاک ڈاءون کیا گیا اور داخلی و اخراجی راستوں کو بند کرکے وہاں پر دا;231;ے اور اکراج کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ اس دوران کووڈ19کے مریضوں کی تعدادبڑھ جانے کی وجہ سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ،اورکئی علاقوں میں نوجوان رضاکارانہ طورپرلاک ڈاءون کوعملانے میں رول اداکررہے ہیں ،تاہم تازہ سبزیاں اوردوسری غذائی اجناس دستیاب نہ ہونے سے لوگوں کوسخت پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے ۔ مارچ کی18تاریخ کوشہرخاص کے خانیار علاقہ کی ایک 67سالہ خاتون جوحال ہی میں عمرہ کی ادائیگی کے بعدسعودی عرب سے واپس گھرپہنچی تھی ،کوکوروناوائرس میں مبتلاء پائے جانے کے بعدجموں وکشمیرکی انتظامیہ نے شہرسری نگرسمیت پوری کشمیروادی میں بندشوں کانفاذعمل میں لایا،اوربعدازاں ان بندشوں کومزدیدسخت کرتے ہوئے شاہراہوں اوراہم سڑکوں کوسیل کرکے یہاں سے گاڑیوں کی آواجاہی کوناممکن بنادیاگیا ۔ وادی میں پہلے سے ہی عائدبندشوں کومزیدسخت بناتے ہوئے شہروقصبہ جات ہی نہیں بلکہ گاءوں دیہات میں بھی لاک ڈاءون کویقینی بنانے کیلئے سخت ترین اقدامات روبہ عمل لائے گئے ،اوراب جبکہ کشمیروادی میں بندشوں کے 4ہفتے مکمل ہورہے ۔ شہرسری نگرسمیت پورے کشمیر میں لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں ۔ گرمائی راجدھانی سری نگر میں مکمل لاک ڈاوَن ہے، سڑکوں پر کرفیو سے بھی سخت پابندیاں عائد ہیں ، ناکوں پر بیٹھے پولیس و فورسز اہلکار راہگیروں یا موٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں ، ماسک نہ پہننے والوں کی سرزنش بھی کرتے ہیں ، لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں ۔ شہرکے بعض علاقوں کے لوگوں کی شکایت ہے کہ اُنہیں راشن فراہم نہیں کیا گیا ہے اور دکاندار گراں بازاری کرکے اُنھیں لوٹ رہے ہیں ۔ لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سری نگرسے اپیل کی کہ غذائی اجناس بشمول سبزیوں وغیرہ کی ہوم ڈیلوری کے اعلان کوعملی جامہ پہنایاجائے ۔ وادی کے دیگرسبھی نواضلاع بشمول بڈگام ،گاندربل ،بارہمولہ ،کپوارہ ،بانڈی پورہ ،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام اوراننت ناگ میں بھی لاک ڈاوَن کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور لوگ گھروں میں ہی محصور ہیں ۔ شمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیر میں بھی پولیس وفورسزاہلکاروں کے مشترکہ دستے شاہراہوں ،سڑکوں اورلنک روڈس پرکڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں ،اورکسی بھی طرح کی آواجاہی کوناممکن بنانے کیلئے خاردارتاریں بچھائی گئی ہیں اوردوسری رکاءوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں ۔ شہروقصبہ جات میں لوگوں کا الزام ہے کہ لاک ڈاوَن کو ممکن بنانے کےلئے سڑکوں پر تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مجبوری یا انتہائی ضرورت کے عالم میں گھر سے نکلنے والے شہریوں کے ساتھ بھی زیادتی کی جاتی ہے اور مریضوں کو بھی تنگ کیا جاتا ہے ۔ لوگوں کہا کہنا ہے کہ لاک ڈاوَن کو یقینی بنانے کےلئے پابندیاں نافذ کرنا ٹھیک ہے لیکن اس کے نام پر لوگوں کو ستانے کی ہرگز کوئی جواز نہیں بنتا ہے ۔ مکمل لاک ڈاءون کے چلتے جہاں سڑکیں سنسان اوربازارویران نظرآرہے ہیں ،وہیں گھروں میں مسدودلاکھوں لوگ موجودہ اضطرابی اورہیبت ناک صورتحال کی وجہ سے سخت پریشان ہیں ۔ تاہم مساجد میں باجماعت نمازکی ادائیگی پرعملاً عاید کردہ پابندی کے چلتے اب لوگ گھروں میں ہی نمازاداکرتے ہیں ۔ اللہ کے سچے بندے سخت پشیمان ہیں اوروہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنے چھوٹے بڑے گناہوں ،خطاءوں اورکوتاہیوں کیلئے معافی طلب کررہے ہیں ،گھرگھرتوبہ استغفارکیاجارہاہے اوراللہ کے حضور اپنے ہاتھ اُٹھاکر رب کائنات سے عاجزی وانکسار ی کیساتھ دعائیں کررہے ہیں کہ اے پروردگار عالم اپنے تمام بندوں کوکوروناوائرس کے قہرسے محفوظ رکھ اوردنیابھر کے انسانوں کواس سخت آزمائش سے نجات دے،آمین ۔ اس دوران پولیس نے بدھ کو بھی لاک ڈاءون کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے خلاف کاروائی جاری رکھتے ہوئے کئی افراد کے خلاف کیس درج کیا جبکہ دکانوں کو سربمہر کرنے کے علاوہ گاڑیوں کو بھی ضبط کیا ۔ پولیس اور انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری گھروں سے باہر نہ آئے اور بندشوں کو کامیاب بنائے ۔

Comments are closed.