کرونا کرفیو کا27واں روز:پیرپنچال اور ٹنل کے آر پار سراسمگی،تناءو اور کشیدگی کا ماحول برقرار

صورتحال سنگین سے سنگین تر،مساجدوں سے بھی لوگوں کوگھروں تک محدود رہنے کی تاکید

سرینگر: ایسمہلک کرونا وائرس کے دہشت سے پیرپنچال اور ٹنل کے آر پار انتظامیہ کی طرف سے نافذ لاک ڈاوَن ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہورہا ہے وہیں لوگوں میں پھیل رہے تشویش و خوف کی لہر آبادی کو گھروں سے باہر قدم رکھنے کیلئے رکاوٹ بنی ہے ۔ سرینگر سمیت جنوب تا شمال لاک ڈاءون اور بندشوں کے27ویں روز ہو کا عالم رہا،جس کے نتیجے میں زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہوکر رہ گیا ہے ۔ پولیس نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ بغیر خصوصی شناخی کارڈوں کے بغیر وہ شاہراہ پر سفر نہ کریں جبکہ مرتکبین کی گاڑیاں ضبط کرنے کے علاوہ مسافروں کو 14روز تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا ۔ جے کے این ایس کے مطابق کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں اور متاثرین میں اضافہ کے نتیجے میں کھنہ بل سے خادنیار تک سراسمگی،تناءو اور کشیدگی کا ماحول جاری ہے،جس میں ہر گزرتے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ لوگوں میں خوف اور تناءو کی کیفیت ہیں ،اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے کترا رہے ہیں ۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جہاں لاک ڈاءون کو کامیاب بنا کر سماجی دوری کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرر ہے ہیں وہی کئی جگہوں سے فورسز اور پولیس پر لوگوں کو بے جا تنگ اور ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں ۔ سڑکوں ،بازاروں ،تجارتی مراکز،مالیاتی اداروں ،نجی و سرکاری دفاتروں ،تعلیمی اداروں حتیٰ کہ مساجدوں اور خانقاہوں کے علاوہ دیگر عبادتگاہوں میں بھی خاموشی کا عالم ہے ۔ لاک ڈاوَن کو ممکن بنانے کے لئے سڑکوں اور گلی کوچوں میں لگائی گئی پابندیاں سخت ترین کرفیو کا منظر پیش کررہی ہیں تاہم لوگ بھی وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے خود بھی گھروں تک ہی محدود ہیں اور دوسروں کو بھی گھروں میں ہی بیٹھنے کی تاکید کررہے ہیں ۔ شہر میں ہر سو خوف وخاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے، کرفیو جیسی پابندیاں برابر نافذ ہیں ، سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے بٹھائے ہیں جہاں پر آنے جانے والوں خواہ ہوں یا موٹر سائیکل پر سوار ہوں یا گاڑی میں ہوں ، کو روکا جارہا اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ پولیس اور فورسز نے اندرونی سڑکوں کو بھی سیل کیا تھا،جبکہ کار دار تاروں اور بکتر بند گاڑیوں سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل مسدود رہی ۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ہر گلی اور سڑک ویران اور بازار صحرائیں مناظر پیش کر رہے تھے ۔ سرینگر شہر میں ہر سو عجیب و غیریب ماحول اور کیفیت میں خاموشی دیکھنے کو ملی ۔ پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے ہو کا عالم ہے،اور ہرسو لوگوں میں کرءونا وائرس سے متعلق مختلف چیمہ گوئیاں ہو رہی ہے ۔ مصروف ترین بازاروں اور تجارتی مراکز میں بھی کرفیوں جیسی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ بس اسٹاپوں ،اڈءوں ،مالیاتی اداروں اور سرکاری دفاتروں میں بھی لوگ جانے سے کترارہے ہیں ۔ لالچوک سمیت سیول لائنز میں کے علاوہ ڈاءون ٹاون میں کئی مقامات پرسڑکوں اورچوراہوں پرخاردار تاریں نصب کی گئی تھیں ۔ وادی کے جنوب و شمال میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی،جس کے نتیجے میں لوگوں کے چہروں پر خوف صاف نظر آرہا ہے ۔ بارہمولہ ،کپوارہ ،بانڈی پورہ ،بڈگام ،گاندربل ،پلوامہ ،شوپیان اورکولگام میں بھی اسی طرح کی صورتحال رہی ۔ وادی کے تمام ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں سے بھی مکمل لاک ڈاءون کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ ایسے علاقوں میں پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی ہے ۔ جنوبی کشمیر کے تمام اضلاع میں کرفیو جیسی صورتحال نظر آئی،جبکہ اضلاع میں داخل ہونے والے راستوں کو بند کیا گیا تھا،جس کے نتیجے میں ان اضلاع میں کسی قسم کی نقل وحمل دیکھنے کو نہیں ملی ۔ یہی صورتحال شمالی کشمیر کے اضلاع میں بھی دیکھنے کو ملی جہاں ہر سو سناٹا ہی سناٹا دیکھنے کو ملا ۔ وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام میں بھی جوں کی توں صورتحال دیکھنے کو ملی اور ہر سو تناءو کی منظر کشی دیکھنے کو ملی ۔ بیشتر لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیج دی،جبکہ سڑکوں اور گلیوں کوچوں میں فورسز کی تعیناتی کے نتیجے میں عملی طور پر کرفیوں جیسا ماحول دیکھنے کو ملا ۔ سرکاری ذراءع نے بتایا کہ وادی کے ضلع و تحصیل صدر مقامات میں بھی پابندیاں جاری ہیں اور لوگوں کو گھروں میں میں بند رکھنے کے لئے دفعہ 144 نافذ ہے ۔ لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے کے لئے پولیس کی گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کررہی ہیں ۔ کئی دیہات میں نوجوان رضاکارانہ طور پر اس وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے مساجد میں نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں سے احتیاطی تدابیر کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں ۔ جموں شہر اور صوبے کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات میں تمام بازاروں میں الو بول رہے ہیں اور سڑکیں سنسان ہیں ، لوگ گھروں میں ہی بیٹھے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ لداخ میں بھی لاک ڈاءون 22 مارچ سے لگاتار جاری ہے ۔ دریں اثنا حکومت جہاں لاک ڈاوَن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف چارہ جوئی کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک اس سلسلے میں سینکڑوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے کئی دکانوں کو سر بمہر اور گاڑیوں کو ضبط کیا گیا ہے وہیں لوگوں کو دو مہینوں کا راشن فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے ۔ سرینگر سمیت وادی کے دیگر کئی علاقوں میں مقامی لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں کو از خود کھار دار تاروں کے علاوہ دیگر رکاوٹوں سے بند کیا ہے،جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں گاڑیوں اور دیگر علاقوں سے ا ائے ہوئے لوگوں کی نقل و حرکت مسدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ سٹی رپورٹر کے مطابق پائین شہر کے علاوہ سیول لائنز اور دیہات میں بھی لوگوں نے ازخود بستوں میں داخل ہونے والے دیگر راستوں کو بند کیا ہے ۔ نمائندے کے مطابق سرکار کی طرف سے ریڈزون قرار دئیے گئے علاقوں میں مزید سختی کے ساتھ بندشیں عائد کی گئی اور انکی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ۔ ان علاقوں میں کسی کو بھی اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

Comments are closed.