اینٹی باڑی ٹسٹ سے لاک ڈاون کی مدت کا تعین کرے گی؛ماس ٹسٹنگ کی سخت ضرورت، کتنے لوگ متاثر ہے پتہ لگانا ضروری ۔ ڈاک

سرینگر:ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ لاک ڈاون زیادہ وقت تک نہیں رکھا جاسکتا ہے کیوں کہ بند کو وسعت دینے سے کئی طرح کے سماجی اور انسانی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اسلئے میں وادی کشمیر میں ماس ٹسٹنگ کی طرف جانا چاہئے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ آبادی کا کتنا حصہ متاثر ہوچکا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ عام لوگوں کے اینٹی باڑی ٹسٹ سے ہ میں پتہ چلے گا کہ لاک ڈاون کی مدت یا اس میں سختی کس قدر برتنی ہوگی کیوں کہ اس سے پتہ چلے گا کہ کشمیر میں صحیح طور پر کتنی آبادی وائرس سے متاثر ہوچکی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کا اختتام کب ہوگا اور کتنی مدت تک چلے گا اس کا فیصلہ عام اینٹی باڑی مخالف جانچ سے کے بعد ہی طے ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدافعتی جانچ کےلئے صرف خون کے چند قطرے درکار ہوتے ہیں جس سے ہ میں کسی شخص کی وائرس سے لڑنے کےلئے قوت مدافعت کا پتہ چلتا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ کسی شخص میں وائرس ہے یا نہیں ۔ اینٹی باڈیز ٹسٹ کسی شخص کی یہ صلاحیت واضح کرتی ہے کہ وہ شخص کسی خطرے کے بغیر اپنے معمول کے کام کاج کو جاری رکھ سکتا ہے یا کسی دوسرے کو متاثر کئے بغیر یا خود متاثر ہوئے بغیر اپنے کام پر لوٹ سکتا ہے ۔ ڈاکٹر نثارا لحسن نے کہا کہ زیادہ لوگوں میں اینٹی باڈیز یعنی قوت مدافعت ہوگی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں بہت کچھ حاصل کیا ہے کیوں کہ جن کے اجسام میں بہتر قوت مدافعت ہوگی وائرس ان کو زیادہ متاثر نہیں کرسکتا کیوں کہ وائرس اپنے لئے اس جسم میں جگہ بنانے میں ناکام ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم میں وائرس سے نمٹنے کےلئے بہتر جسمانی صلاحیت ہے تو ہم لاک ڈاون کر ختم کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ لاک ڈاون کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جاسکتا ہے اور ہ میں لاک ڈاون اور معمول کے کام کے درمیان ایک ربط قائم کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عام زندگی بھی بحال ہوسکے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ 2009 میں یہاں سوائن فلو ;72;1;78;1نمودار ہوا جو دو سے تین ماہ تک رہا تاہم یہ وائرس زیادہ دیر تک موجود نہ رہ سکا اور اچانک غائب ہوگیا اسی طرح کی امید کووڈ 19سے متعلق بھی ہے ۔ تاہم موجودہ وقت میں ہم کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھاسکتے جس سے یہ وائرس زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیل جائے ۔

Comments are closed.