سرینگر: ایسکرونا دہشت کے بیچ لاک ڈاءون کے26ویں روز پیر کپوارہ سے کھٹوعہ تک صورتحال جوں کی توں رہی،جس کے نتیجے میں ہر چہار اور دہشت اور پرتناءو ماحول کی منظر کشی ہوئی ۔ شرق و غرب میں سڑکوں پر نصب شدہ خار دار تاروں ،بکتر بند گاڑیوں اور رکاوٹوں سے سرینگر جموں شاہراہ سمیت بین الاضلعی سڑکیں بھی ہوز سیل ہے،جبکہ کئی مقامات پر محلہ لاک ڈاءون کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔ جے کے این ایس کے مطابق دنیا میں تباہی پھیلانے والے مہلک کرءونا وائرس کی منتقلی کی زنجیر توڑنے کیلئے حکام کی طرف سے جاری لاک ڈاءون کے نتیجے میں سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا رہنے کے ساتھ ساتھ لوگوں و گاڑیوں کی نقل و حمل اور عبور و مرور منقطع رہا ۔ بازار اور دیگر تمام کاروباری مراکز بند رہنے کے علاوہ سڑکوں سے مسافر و نجی گاڑیاں غائب رہیں ۔ نمائندوں کے مطابق سرینگر شہر کو مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراءوں کے ساتھ ساتھ تمام بین ضلعی سڑکوں اور لنک روڈوں پر کہیں کہیں فوجی ،فورسز اور پولیس کی گاڑیاں نظر آرہی تھیں جبکہ پرائیویٹ اور مسافر گاڑیوں کا عمومی طور کہیں کوئی نشان تک نہ تھا ۔ پورے شہر سرینگر میں انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور چپہ چپہ پر رکاوٹیں اور ناکہ بندی کی گئی تھی جبکہ لاک ڈاءون کے نتیجے میں بھی شہر میں ہو کا عالم تھا ۔ پولیس اور فورسز اہلکاروں کو پائیں شہر کے دیگر حساس مقامات پر تعینات کیا گیا تھا ۔ فورسز اور پولیس اہلکاروں نے پورے شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی کی تھی جبکہ سڑکوں پر خار دار تاروں کو بچھایا تھا اور ہر آنے جانے والے شخص کی جامعہ تلاشی کرنے کے علاوہ شناختی کارڈوں کو بھی چیک کیا جا رہا تھا ۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریذڑنسی روڈ پر ریڈیو کشمیر،آبی گزر ،گھنٹہ گھر،امیراکدل اور دوسری جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی اور پوچھ تاچھ کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی ۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص میں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا اور فورسز و پولیس کی بھاری تعداد کو سڑکوں اور حساس مقامات پر تعینات کیا گیا تھا ۔ موبائیل بنکروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیوں کو بھی اہم داخلی راستوں پر رکاوٹ کے بطور کھڑا کیا گیا تھا ۔ پائین شہر اور سیول لائنز میں پولیس نے دکانداروں کو اپنی دکانیں ،تجارتی و کاروباری مراکز اور تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان گاڑیوں پر لگے لوڑ سپیکروں کے ذریعے جاری رہا،جس کے نتیجے میں دکانداروں نے اپنی دکانوں کو 26ویں روز بھی مقفل ہی رکھا ۔ انتظامیہ کی ہدایات کے تحت عوامی ٹرانسپورٹ ،لوگوں کے پیدل چلنے،کاروباری سرگرمیوں اور اجتماعات پر 15اپریل تک پابندیاں عائد رہیں گی ۔ سرینگر میں انتظامیہ نے سڑکوں کی ناکہ بندی کی ہیں اور جگہ جگہ کھار دار تاریں نصب کرکے مسافر بردار ٹریفک کی نقل و حمل کو بندکردیا ۔ ضلع انتظامیہ نے شہر کی سڑکوں پر پولیس اور فورسز کو تعینات کردیا جنہوں نے لوگوں کی آمد و رفت محدود کرنے کا کام کیا ۔ سرینگر میں کئی اہم رابطہ پلوں کے علاوہ امیراکدل،بٹہ مالو،ٹینگہ پورہ،حیدرپورہ،نوگام بائی پاس،ہمہامہ کے علاوہ شہر خاص میں بھی متعدد جگہوں پر سڑکوں پر کھار دار تاریں نصب کی تھی ۔ اس صورتحال کے نتیجے م یں ہر گلی اور سڑک ویران اور بازار صحرائیں مناظر پیش کر رہے تھے ۔ سرینگر شہر میں ہر سو عجیب و غیریب ماحول اور کیفیت میں خاموشی دیکھنے کو ملی ۔ اس صورتحال سے عملی طور پر جنوب و شمال لاک ڈاءون کا ماحول ہے ۔ وادی کے جنوب و شمال میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی،جس کے نتیجے میں لوگوں کے چہروں پر خوف صاف نظر آرہا ہے ۔ لالچوک سمیت سیول لائنز میں کے علاوہ ڈاءون ٹاون میں کئی مقامات پرسڑکوں اورچوراہوں پرخاردار تاریں نصب کی گئی تھیں ۔ بارہمولہ ،کپوارہ ،بانڈی پورہ ،بڈگام ،گاندربل ،پلوامہ ،شوپیان اورکولگام میں بھی اسی طرح کی صورتحال رہی ۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا، بازارنہیں کھلے اور لوگوں کی آمد و رفت معطل رہی ۔ ادھروادی کے سبھی ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ علاقوں میں 15اپریل تک ٹرانسپورٹ، کاروباری و تجارتی مراکز اور دیگر ایسی تمام جگہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں لوگوں کے جمع ہونے کے امکانات ہیں ۔ البتہ سبھی اضلاع میں میڈیکل شاپ، دودھ وسبزی فروش، میوہ فروش،پیٹرول پمپ اور دیگر ایسی جگہیں جو ضروری اشیاء فروخت کررہے ہیں ، کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی شخص سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کریگا اسے قانون کے مطابق سزا دی جائیگی ۔ جموں کشمیر انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی طور خود کو محدود کریں اور جمع ہونے کی جگہوں سے دور ی بنائے رکھے ۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تھوڑی سی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال سے رابطہ قائم کریں ۔ جنوبی، شمالی اور وسطی کشمیر سے کسی بھی گاڑی کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کے احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ شوپیان،بانڈی پورہ،گاندربل،بارہمولہ،کولگام، اننت ناگ اور بڈگام میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ اور لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ پولیس کی طرف سے گزشتہ 26روز کے دوران دفعہ144کے تحت جاری امتنائی احکامات کی خالف ورزی کی پاداش مین مجموعی طورپر1200افراد کو گرفتار کیا ہے،جبکہ قریب300دکانوں کو سربمہر کرنے کے اعلاہ سینکڑوں گاڑیوں کو بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سفری تاریخ چھپانے کی وجہ سے پورا معاشرہ خطرے میں ہیں ۔ پابندیوں کی وجہ سے دیہات اور قصبوں میں عوامی مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ متعدد دیہات میں جہاں غذائی اجناس کی قلت کی شکایت موصول ہونا شروع ہو چکی ہیں وہیں دستیاب ضروری اشیا کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اور زائدقیمتیں وصول کی جارہی ہیں ,تاہم لوگوں کی شکایت ہے کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے علاوہ دیگر محکموں کی ٹی میں بھی غائب ہوگئی ہے اور نرخوں یں اجافہ کرنے والوے لوگوں اور تاجروں کے خلاف کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے،جس کی وجہ سے روز بہ روز انکے حوصلے برتے جا رہے ہیں ۔ معیاری سبزیوں اور میوہ جات کی شدید قلت ہے، وہاں ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔ پولیس اور ریاستی انتظامیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سفری تفصیلات پوشیدہ رکھے والے لوگوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس عمل کو جرم تصور کیا جائے گا ۔
Comments are closed.