ایشیاء کے سب سے بڑے ٹولپ گارڈ ، بادام واری میں ڈالیوں پر پھول سجے
کوروناوائرس کے خوف سے لوگ ان قدرتی نظاروں سے لطف اُٹھانے سے رہے محروم
سرینگر/10اپریل: ایشیاء کے سب سے بڑے ٹولپ گارڈ اس سال سیاحوں سے خالی رہا اگرچہ متعلقہ حکام نے اس سلسلے میںتمام تر تیاریاں مکمل کرلی تھیں تاہم کوروناوائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں سیاحتی شعبہ بُری طرح سے متاثر ہوا ہے وہیں وادی میں بھی سیاحتی مقامات میں سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ اور باغ گلہ لالہ ، مغل باغات، بادام واری اور دیگر سیاحتی مقامات میںچرندوپرند اور جانوروں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں اور دل پذیر زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ایشیا کے سب سے بڑے باغ گل لالہ میں نوع بہ نوع اقسام کے 13 لاکھ پھول تو کھل گئے ہیں لیکن کورنا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس باغ کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونا کسی کے نصیب میں ممکن نہ ہوسکا۔سال 2008 میں لوگوں کے لئے وقف کئے جانے والے زائد از 30 ایکڑ اراضی پر پھیلا یہ باغ گل لالہ امسال پہلی بار سیاحوں کے لئے بند رہا جبکہ متعلقہ حکام نے سیاحوں کے لئے حسب معمول تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دے دی تھی۔باغ گل لالہ، جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہر سال دنیا کے گوشہ وکنار سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے تھے، سنسان ہے اور اس میں داخل ہونے کے تمام دروازے مقفل ہیں۔ایشیاء کے سب سے بڑے ٹولٹ گارڈ میں جہاں ہوکا عالم ہے وہیں پر موسم بہار کی آمد میں مشہور باغ بادام واری جو کہ شہر خاص میں واقع ہے میں بھی سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ بادام کے دلکش شگوفے تو درختوں کی ڈالوں پر سیلانوں کی منتظر ہے لیکن کوروناوائرس کے خوف سے لوگ باغات کی سیر کرنے سے ڈر رہے ہیں ۔ ادھر دیگر مغل باغات میں بھی چرندوپرند کے علاوہ دیگر جانوروں کے سوا کوئی بھی انسان دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ یاد رہے کہ باغ گل لالہ 30 ہیکٹر (602 کنال) رقبے پر پھیلے اس باغ گل لالہ میں ٹیولپ کے ہزاروں پودوں پر رنگ بہ رنگی پھولوں کو کھل اٹھے ہیں۔’باغ گل لالہ میں سرخ، پیلے ، سنتری، جامنی، سفید، گلابی، طوطے ، پیلے، دو رنگی اور سہ رنگی پھولوں نے پہلے ہی چاروں اطراف دھنک کے رنگوں کے دلکش نظارے بکھیردیے ہیں‘۔یاد رہے کہ اس مشہور باغ گل لالہ کا افتتاح یو پی اے چیرپرسن اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے 29 مارچ 2008 کو انجام دیا تھا۔ یہ باغ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ذہن کی پیداوار ہے جنہوں نے اس پر سنہ 2005 میں کام شروع کروایا تھا۔ کشمیر میں باغ گل لالہ کے قیام کی بدولت یہاں سیاحتی سیزن میں دو ماہ کا اضافہ ہوگیا تھا۔ جہاں سال 2008 سے قبل سیاح مئی کے آخری ہفتے سے وادی کا رخ کرنا شروع کرتے تھے ۔ سال 2014 میں جب یہ باغ سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا تھا تو صرف پہلے سات دنوں کے دوران 40 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے اس باغ کی سیر کی تھی۔ گذشتہ برسوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف کونوں اور غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے باغ گل لالہ دیکھنے میں دلچسپی دکھائی۔ اس مختصر عرصے کے دوران اس باغ میں جنوبی ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور بالی وڈ کی کئی فلموں کے نغمے فلمائے گئے ۔یہ باغ کم از کم ایک ماہ کے لئے سیاحوں اور مقامی لوگوں کی سیر وتفریح کے لئے کھلا رہتا تھا‘۔تاہم امسال باغ کو سیاحوں کیلئے کھولا ہی نہیں گیا کیوںکہ گذشتہ برس نومبر سے ہی چین میں کوروناوائرس سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آتی رہیں جبکہ دھیرے دھیرے اس وبائی وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
Comments are closed.