Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
سرینگر ؍29نومبر ؍ الفا نیوز سروس ؍
کشمیر مسئلے پر چین کا موقف برقرار ہے اور اروناچل پردیش کو چین اپنا حصہ مانتا ہے لہذا بھارت کو یہ بات سمجھ لینی ہوگی کہ سرحدی حد بندی تک ہندچین سرحدی کشیدگی ختم نہیں ہوسکتی ہے ،تاہم چین نے کشمیر مسئلے کے حل کیلئے ہندوپاک کو فوری مذاکرات کی بحالی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات سے ایسے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق چین کے مرکزی وزرات خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران ہندچین رشتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات موجود ہیں لہذا سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے سے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں۔ چین نے سی پیک میں بھارت کی رکاوٹ کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے سی پیک کے معاملے پر بھارت کو سمجھانے کی کافی کوشش کی ہے لیکن ابھی بھی بھارت کو اس سلسلے میں تحفظات برقرار ہیں ۔تاہم اروناچل پردیش کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ اروناچل اور کشمیر کے معاملے پر چین کاموقف برقرار ہے اور کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ چین کشمیر حل کیلئے مدد دینے کوبھی تیار ہے لہذا دونوں ممالک مذاکرات کی بحالی کویقینی بنائیں ۔اس دوران چینی وزرات خارجہ کے ترجمان نے آج کہا کہ کشمیر پر چین کا موقف برقرار ہے اور امید ہے کہ ہندوپاک اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مذاکرات بحال کریں گے ۔ چینی وزرت خارجہ کے ترجمان ژنگ سوآئنگ نے آج کہا کہ چین بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے حق میں ہے ۔انہوںنے کہاکہ چین کسی بھی لڑائی اور جھگڑے میں پڑنے کا عادی نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملک کے معاملات میں مداخلت کا حامی ہے ۔تاہم کشمیر مسئلے پر ترجمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تاریخ کا چھوڑا ہوا ہے مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل ہونے کی چین کو تمنا بھی ہے اور خواہش بھی ۔تاہم براہ راست ثالثی کیلئے چین تیار بھی ہے لیکن چین اس بات کواہمیت دیتا ہے کہ ہنوپاک باہمی طور پر ہی اس مسئلے کو حل کریں تو بہتر ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ یہ مسئلہ ہر حال میں تنازعہ ہے اور دنیا اس کا اقرار کرے یا نہ کرے پھر بھی یہ تنازعہ دنیا میں موجود ہے جس کی وجہ سے ہندوپاک کے درمیان خوفناک ٹکراو کا بھی خدشہ برقرار ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کیساتھ چین کی دوستی کسی ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن پاکستانی مفادات کو جہاں کسی بھی ملک کی وجہ سے زک پہنچنے کا خطرہ ہو تو چین سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند پاکستان کی حفاظت کریگا ۔انہوںنے مزید کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی دائمی دوستی ہے یہ وقتی نہیں ہے لہذا پڑوسیوںمیں سے کسی بھی ملک کو پاکستان کیخلاف سازشیں کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے کہاکہ سی پیک کا نام بدل دیا گیا ہے لہذا اس پر مزید کوئی بات نہیں کی جاسکتی ہے ،چینی وزرات خارجہ کی ترجمان نے صاف کردیا ہے کہ چین برصغیر میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے دونوں ممالک ہندوپاک کے درمیان بات چیت کا خواہش مند ہے اور وہ دونوں ممالک کی حکومتوںکو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ وہ باہمی طور پر مذاکرات بحال کریں تاکہ سبھی مسائل کا حل نکالاجاسکے ۔انہوںنے صاف کر دیا کہ کشمیر پر براہ راست ثالثی کیلئے ہندوپاک کی آمادگی لازمی ہے ۔ تاہم انہوںنے کہاکہ جس طرح سے بھی ہو سکے ہمیں دونوں ممالک کے درمیان صلاح و مشورہ کرنے کی ضرور ت محسوس کرناہوگی ۔ادھر بھارت نے چین کے ثالثی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کسی بھی طرح کی ثالثی کا خواہاں نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان کیساتھ معاملات کو ٹھیک کرنے کا خواہاں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تشدد بھی برقرار رکھا جائے اور سرحد پار کی دراندازی بھی جاری رہے جس کے بعد پھر بھی بھارت مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار ہو۔الفا نیوز سروس کے مطابقبھارتی وزات خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان کو بھارت کے کئے وعدوںکو ایفا کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں جوں ہی سرحد پار سے دراندازی بند ہوجائیگی ارو حالات سازگار ہوجائیں گے تو یقینی طو رپر دوطرفہ مذاکرات کی بحالی بھی ممکن ہوسکے گی ،وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان کشمیر میں تشدد پھیلانے کیلئے سرحد پار سے دراندازی کویقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بھارت نے کئی بار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی پہل کی جس کے بعد ممبئی حملہ اور دیگر حملے بھی ہوئے جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوگیا ۔انہوںنے چین کے حوالے سے کہاکہ بھارت نے چین کو بتادیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے اوراس مسئلے پر بھارت کسی بھی طرح کی کوئی ثالثی قبول نہیں کریگا ۔
Comments are closed.