آر پار تجارت کے ذریعے ملی ٹینٹ تنظیموں کی فنڈنگ ہو رہی تھی /این آئی اے

آر پار تاجر سے پوچھ تاچھ کے دوران اہم ثبوت ملے ہیں۔ مزید گرفتاریاں متوقع

سرینگر16 فروری//یو پی آئی // آر پار تاجر کی گرفتاری اور اُس سے پوچھ تاچھ کے بعد تفتیشی ایجنسی (این آئی اے )کا کہنا ہے کہ آر پار تجارت کے ذریعے عسکریت پسندوں کی فنڈنگ ہو رہی تھی اور اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق گرفتار ڈی ایس پی کے ساتھ رابط ہونے کی پادائش میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )نے آر پار تاجر کی گرفتاری عمل میں لا کر تحقیقات شروع کی جس دوران پتہ چلا ہے کہ اس تجارت کے ذریعے ملی ٹینٹ تنظیموں کی فنڈنگ ہو رہی تھی ۔ تحقیقاتی ایجنسی ذرائع کے مطابق گرفتار ملی ٹینٹوں نے بھی اس بات کی جانکاری دی ہے کہ وہ آر پار تجارت کے ذریعے سرحد کے اُس پار بیٹھے افراد کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق نوید بابو سے پوچھ تاچھ کے دوران اس بات کے پختہ ثبوت ملے کہ آر پار تجارت کے ذریعے ملی ٹینٹ تنظیموں کی فنڈنگ ہو رہی تھی۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق آر پارتجارت کے ذریعے فنڈنگ ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ایجنسی نے ۴سال قبل کیس بھی درج کیا تاہم اس دوران کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تاہم ڈی ایس پی اور اُس کے ساتھ گرفتار کئے گئے ملی ٹینٹوں کے ساتھ پوچھ تاچھ کے دوران اہم سراغ ملے ہیں۔ تحقیقاتی آفیسر کے مطابق اس سلسلے میں آئندہ کچھ دنوں کے دوران مزید گرفتاریاں متوقع ہے تاکہ چار برس قبل اس پُرانے کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ بتادیں کہ گزشتہ دنوں این آئی اے نے سابق آر پار تجارت کے صدر تنویر احمد کو حراست میں لے کر اُس سے پوچھ تاچھ شروع کی ۔ این آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ آر پار تجارت پر پہلے ہی سیکورٹی ایجنسی کو خدشات تھے تاہم ہمارے پاس اس کے پختہ ثبوت نہیں تھا۔ تاہم ڈی ایس پی اور اُس کے ساتھ گرفتار کئے گئے ملی ٹینٹوں نے اس بارے میں کچھ جانکاری دی جس کے بعد سابق آر پار تجارت کے صدر کو گرفتار کیا گیا ۔ این آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کو آر پار تجارت کے سلسلے میں اہم سراغ ملے ہیں۔

Comments are closed.