سرینگر/16فروری/کے این ٹی // رواں سال کے پہلے ڈیڑھ ماہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سرحدی گولہ باری سے ایک فوجی اہلکار سمیت پانچ لوگ مارئے گئے۔ پچھلے سال جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد سرحدوں پر بھارت اور پاکستان کے بیچ تناو کافی بڑھ چکا ہے اور ابھی تک بھارت اور پاکستانی افوج کے درمیان سینکڑوں مرتبہ گولہ باری کا تبادلہ ہوا چکا ہے۔ کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق امسال فروری کے وسط تک ایک فوجی سمیت پانچ افراد پاکستانی گولہ باری میں مارئے جاچکے ہیں جبکہ درجنوں رہایشی مکانات و گاو خانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پچھلے ماہ جنوری کی 11تاریخ کو سرحدی ضلع پونچھ میں کسالین کے مقام پر پاکستانی فائرنگ سے دو فوجی پورٹر مارئے گئے جن کی شناخت بعد میں محمد اسلم اور الطاف احمد ساکنان گلپورہ پونچھ کے بطور ہوئی۔ اس طرح فروری کی 3تاریخ کو کرناہ کپوارہ میں پاکستانی گولہ باری سے ایک بزرگ محمد سلیم مار ا گیا ۔اس واقعہ کے پانچ روز بعد یعنی 8 فروری کو پونچھ ضلع میں پاکستانی افواج کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا ۔ اس روا دونوں ممالک کے افواج میں ہوئے گولہ باری کے تبادلہ میں کئی رہایشی مکانات پونچھ میں تباہ ہوگئے۔ 14فروری کو بھی پاکستانی اور بھارتی فوج کے درمیان پونچھ ضلع کے سرحدی شاہپور اور کیرنی علاقوں میں شدید گولہ باری ہوئی جس کے نتیجے میں شاہ پور پونچھ کا ایک عام شہری مارا گیا۔اس ہلاکت کے بعد اکثر لوگوں نے تقل مکانی اختیار کی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ کافی خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کے مطابق پاکستانی اور بھارتی افواج میں گولہ باری کا تبادلہ ایک معمول سا بن چکا ہے۔ کرناہ کے ایک عام شہری نے کے این ٹی کو بتایا کہ آر پار گولہ باری کے نتیجے میں وہ سخت خوف کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں انھوں نے بتایا کہ پتہ نہیں کب گولہ بار ی شروی ہوتی ہے اور انسانوں و مویشوں کو نگل جاتی ہے۔ ’ہم نے حکا م نے بار بار اپیل کی کہ وہ ہمارئے لئے زمین دوس بنکر تعمیر کریں لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ ایک اور شہر ی نے بتایا کہ آر پار گولہ باری سے نہ ان کی جان سلامت ہیں اور نا ہی مال۔ ’انسان تو انسان ہمارئے مویشی بھی گولہ باری کی زد میں آکر ہلاک ہورئے ہیں‘۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.