بھارت کی مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی خاطر مثبت اقدامات اُٹھائے ہیں
کچھ پابندیوں کو ہٹایا گیا بقیہ پابندیاں جن میں انٹرنیٹ کی بحالی اور نظر بند لیڈران کی رہائی شامل ہیں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت /یورپی یونین ترجمان
سرینگر14 فروری//یو پی آئی // بین الاقوامی ممالک کے سفرا کا جموںوکشمیر دورہ مکمل کرنے کے بعد یورپی یونین نے بیان جاری کرتے کہاکہ بھارت کی مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی خاطر مثبت اقدامات اُٹھائے ہیں لیکن باقی پابندیوں کو فوری طورپر بحال کرنا ناگزیر بن گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق یورپی یونین نے غیر ملکی سفارتکارو ں کے کشمیر دورے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیر میں حالات معمول پر آرہے ہیں جیسا کہ سفرا نے دورے کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا۔یورپی یونین کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت نے حالات کو معمول پر لانے کی خاطر مثبت اقدامات اُٹھائے ہیں جو سراہنا کے قابل ہے۔ تاہم جموںوکشمیر میں باقی پابندیوں کو بھی ہٹانا ضروری بن گیا ہے۔ یورپی یونین نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جرمنی ، کینڈا، فرانس ، اٹلی ، پولینڈ ، نیوزلینڈ، میکسکو ، افغانستان ، آسٹریا اور عزبکستان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے سفرا ءنے جموںوکشمیر کا دورہ روزہ دور ہ کیا اور وہاں پر لوگوں سے بات چیت کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے حالات کو معمول پر لانے کی خاطر مثبت اقدامات کئے ہیں جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق ابھی بھی کئی پابندیاں عائد ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ جموںوکشمیر میں انٹرنیٹ کو پوری طرح سے بحال نہیں کیا گیا اور سیاسی قیدی ابھی بھی نظر بند ہے اور ان سبھی معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ اگر چہ سلامتی کے سنگین خدشات کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ بقیہ پابندیوں کو فوری طورپر ہٹایا جائے ۔ یورپی یونین کے ترجمان برائے امور خارجی اور سلامتی پالیسی ”بٹو ہنرکسن “نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جموںوکشمیر کی صورتحال پر ہماری نظر ہے اور سفارتکاروں کا جموںکشمیر کا دورہ کامیاب رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی مرکزی حکومت نے کئی پابندیوں کو ہٹایا ہے تاہم انٹرنیٹ کی فوری بحالی اور نظر بند لیڈران کی رہائی کے حوالے سے مرکزی حکومت پر دباو ڈالا جائے گا۔ بتادیں کہ جموںوکشمیر کے دو روزہ دورے کے بعد بین الاقوامی سفارتکاروں نے اپنے اپنے ملکوں کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں حالات پوری طرح سے نارمل ہیں تاہم کچھ پابندیاں ابھی بھی عائد ہیں جن میں خاص کر انٹرنیٹ خدمات کو پوری طرح سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یورپی یونین ارکان نے بھی یورپی پارلیمنٹ کو جموںوکشمیر کی صورتحال کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا کہ جموںوکشمیر کا دورہ کرنے پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہاں پر حالات پوری طرح سے معمول پر آئے ہیں لیکن انٹرنیٹ خدمات پر پابندی اور مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈران کی نظر بندی اب بھی برقرار ہے ۔
Comments are closed.