دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد وادی کشمیرکے حالات میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں کافی بہتری دیکھنے کو ملی ہے / رپورٹ
سال 2019میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے ملی ٹینٹ تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں 35فیصد کمی واقع ہوئی ہے ، حالات پر نظر گزررکھی جارہی ہیں
سرینگر04 فروری//یو پی آئی // سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد مقامی نوجوانوں کی جنگجو تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے تاہم حد متارکہ پر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو اس طرف دھکیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں حالات کو درہم برہم کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا جس کے ثمر آور نتائج برآمد ہور ہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے 5اگست کے بعد جموںوکشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک ڈرافت بنایا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 370کو منسوخ کرنے کے بعد وادی کشمیر میں حالات معمول پر آئے ہیں۔ ڈرافت کے مطابق اگست کے بعد سے مقامی عسکریت پسندوں کی جنگجو تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں نے بتایا کہ 5اگست سے لے کر 26جنوری 2020تک صرف 28مقامی نوجوان عسکریت پسند صفوں میں شامل ہوئے ہیں جس سے یہ صاف ہو جاتا ہے کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں رواں برس ملی ٹینٹ تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں 60فیصدی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق یکم جنوری 2019سے 4اگست 2019تک 105مقامی عسکریت پسند وں نے بندوق کو گلے لگایا ۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق جنوبی اضلاع پلوامہ ، اننت ناگ ، کولگام اور شوپیاں میں مقامی نوجوانوں نے بندوق اُٹھایا ۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق اس دوران15مقامی جنگجوﺅں نے عسکریت کو خیر باد کہہ کر گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق کل ملا کر سال 2019میں مقامی نوجوانوں کی ملی ٹینٹ تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں 35فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں نے ڈرافٹ میں لکھا ہے کہ سال 2019میں کل ملا کر 135مقامی نوجوان جنگجو بنے جبکہ سال 2018میں 199مقامی عسکریت پسندوں نے جنگجو تنظیم کو گلے لگایا۔ دراندازی کے بارے میں سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حد متارکہ پر ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کو بھارت کے حدود میں دھکیلنے کا سلسلہ جاری بھی جاری ہے۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں نے بتایا کہ رواں سال 133عسکریت پسند دراندازی کے ذریعے اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق سال 2019میں 211عسکریت پسندوں نے اس طرف آنے کی کوشش کی جس دوران 74واپس پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی طرف جانے میں کامیاب ہوئے اور چار کو لائن آف کنٹرول پر مار گرایا گیا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں سال 2019میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں ۔ اگر چہ اس دوران پلوامہ میں خود کش حملہ بھی ہوا تاہم پورے سال پر اگر نظر دوڑائی جائے تو پچھلے سالوں کے مقابلے میں سال 2019میں حالات قدرے بہتر ہی رہے ۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ جموںخاص کرو ادی کشمیر میں حالات پوری طرح سے معمول پر ہیں اور کسی کو بھی امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پولیس ، پیرا ملٹری فورس اور فوج مل جل کر عسکریت پسندی کے خلاف نبرد آزما ہو رہی ہیں اور جنوری کے مہینے میں فورسز کی جانب سے چلائے گئے مشترکہ جنگجو مخالف آپریشنز کے دوران جیش کمانڈر سمیت متعدد عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے ایک ماہ سے سرگرم عسکریت پسندوں اور اُن کے بالائی ورکروں کو بھی تلاش کیا جارہا ہے جس دوران درجنوں ملی ٹینٹ معاونین کو حراست میں لے کر اُن سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہیں۔
Comments are closed.