لائن آف کنٹرول پھر گن گرج سے لرز اٹھی ، ہند پاک افواج کے درمیان 50مرتبہ ہلاکت خیز گولہ باری

اس پار کشمیر میں چار شہری ہلاک ، آر پار درجنوں فوجی اہلکار اور شہری زخمی ، اسکول بند ، لوگ محفوظ مقامات پر منتقل

سرینگر: بدھ کو ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول اس وقت گولیوں کی گرگرج سے لرز اٹھی جب ہند پاک افواج کے مابین زبردست گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں نصف درجن فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ رہائشی ڈھانچوں کا نقصان پہنچ گیا۔ ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میںنکیال سیکٹر میں 4 افراد ہلا ک ، جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ، اسی دوران گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہلاکت خیز گولہ باری کے بعد آر پار سرحدوں کے قریب رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے جبکہ ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی ادارے بھی بند کئے گئے ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کو ایک مرتبہ پھر ہند پاک افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ایک ہفتے سے تنائو وکشیدگی کی صورتحال میں مزید شدت آئی ہے ،کیو نکہ برصغیر کی دوایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پونچھ اور راجوری اور کپواڑہ کے اوڑی کے کئی سیکٹروںمیں کنٹرول لائن پر واقع چوکیوں پرپاکستانی افواج نے آج صبح بھاری گو لہ باری کی۔جس کے جواب میں بھارتی فوج نے بھی گولی باری شروع کی۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعہ میںنصف درجن فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ کئی دھانچوں کو نقصان پہنچ گیا ہے۔ادھرریاستی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا ’پاکستان کی طرف سے مینڈھر پونچھ کے بالاکوٹ سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس میں بی ایس ایف کے 5اہلکار زخمی ہوئے جن کو علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘۔ادھرپاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فورسز کی جانب سے شدید فائرنگ کے نتیجے میں نکیال سیکٹر میں 4 افراد جاں بحق 11 زخمی ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے پاکستان کے علاقے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے مقام پر شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر وادی جہلم عمران شاہین کے مطابق بھارتی فورسز کی شیلنگ کے نتیجے میں خیلانا سیکٹر کے گاؤں گھی کوٹ میں 25 سالہ سمینہ بی بی اور ان کی 3 سالہ بیٹی کنول کے علاوہ ایک اور نامعلوم خاتون زخمی ہوگئیں۔ان کا کہنا تھا کہ گھی کوٹ میں بھارتی شیلنگ کی وجہ سے مسجد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔مقامی افراد کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات سے تاحال بھارتی فورسز کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ لوگ بھارتی شیلنگ سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوٹلی ڈاکٹر عمر اعظم نے بتایا کہ 2 ہزار سے زائد شہریوں کو ایل او سی کے قریب مختلف سیکٹرز پر محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران بین الاقوامی حد متارکہ پر ہندوستان اور پاکستانی افواج کے درمیان ایک درجن کے قریب انسانی جانوں کا زیاں ہوا ہے۔جس میں دونوں جانب فوجی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ سرحدوں پر دونوں ملکوں کے افواج کی درمیان شدید گولہ باری اور شلنگ کے تبادلے کے نتیجے میں سرحدوں پر رہائش پذیر لوگ ایک مرتبہ پھر خوف و دہشت کی لہر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

Comments are closed.