ویڈیو: میمندر شوپیان میں خونین معرکہ آرائی ، مقامی جیش جنگجو غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق

ہڑتال اور بندشوں کے بیچ مقامی جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک ، تجہیز و تکفین میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

سرینگر: تاریگام کولگام کے بعد شوپیان کے میمندر علاقے میں بدھ کی اعلیٰ صبح فورسز اور جنگجوئوں کے مابین خونین تصادم آرائی میں مقامی جیش جنگجو اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہو گیا ۔ ہڑتال کے بیچ مقامی جنگجوکو آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ تجہیزو تکفین میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔اسی دوران افواہوں کی روکتھام کیلئے جنوبی ضلع شوپیان میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کی گئی ۔سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میمندر شوپیان میں دو سے تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کو بدھ کی اعلیٰ صبح محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی فورسز نے بھی مورچہ زن ہوکر جوابی کارورائی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں جھڑپ کے ساتھ ہی فورسز نے محاصرہ تنگ کیا اور جنگجو ئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے بعد جنگجوئوں نے مکان میں پنا ہ لی ۔ جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور فوج نے مکان کے ملبے سے دوجنگجوئوں کی نعشیں بر آمد کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق جنگجو ئوںکے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔جن میں سے ایک کی شناخت سہیل نظیر میر ولد نظیر احمد میر ساکنہ سیدہ پورہ پائین شوپیان جبکہ دوسرے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی تھا اور دونوں کا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں جھڑپ میں دو جنگجو جاں بحق ہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق بدھ کی اعلیٰ صبح میندر شوپیان علاقے میں فورسز اور جنگجوئوںکے مابین خونین معرکہ آرائی ہوئی جس دوران دو جنگجو جاں بحق ہو گئے جن میں سے ایک کی شناخت مقامی جنگجوئوں کے بطور ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوئوں کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بادور بھی ضبط کیا گیا جبکہ مقامی جنگجو کی شناخت ہونے کے بعد ضروری لوازمات کی ادائیگی کے ساتھ ہی اسے آخری رسومات کیلئے لواحقین کے حوالہ کیا گیا ، انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جونہی مقامی جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی جس دوران بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کئے ، معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کے بیچ مہلوک جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی جس کے بعد اسے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا، معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کے تجہیزو تکفین میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔ جھڑپ کے ساتھ ہی جنوبی ضلع شوپیان کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے تھے ۔(سی این آئی )

Comments are closed.