طلاب تاجروں اور مزدوروں پر حملوں کے بعد وزیر اعظم کی خاموشی حیران کن /اسد دین اویسی

کشمیر بھارت کا ناقا بل تنسیخ انگ تو کیا کشمیری بھارت کے شہری نہیں/چدمبرم

سرینگر/: لیتہ پورہ فدا ئین حملے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ تاجروں اور مزدوروں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی ان حملوں پرخاموشی کو حیران کن قرر دیتے ہوئے کہا کہ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری کی جا رہی ہے ۔ادھر سابق مرکزی وزیرخز انہ نے مرکزی حکومت کو آڑھے ہاتھ وں لیتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر بھار ت کا نا قا بل تنسیخ انگ ہے تو کشمیر کے لوگ کس کے ہیں اور ان پر حملہ کرنے کی جو ازیت کیا ہیں ۔اے پی آ ئی کے مطابق ممبر پارلیمنٹ اسد و دین اویسی نے 14فروری کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ کو کالجوں یونیورسٹیوں سے معطل کرنے طلاب تاجروں اور مزدوروں کو حرا ساں کرنے کی کار ائیو ں کوقا بل تشویش قرا ردیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے لیتہ پورہ فدا ئین حملے کے بعد ہمسایہ ملک کوکوسنے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا تاہم کشمیری طلاب تاجروں اور مزدوروں پر پونے و الے حملوں کشمیری مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کشمیری تاجروں مزدوروں کو زد کوب کرنے کے بارے میں اپنی زبان نہیں کھولی جوایک حیران کن عمل ہے ۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیراعظم کی خاموشی کسی نہ کسی بات کی عکاسی ہے کیا ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا وزیراعظم 2019کے الیکشن جیتنے کیلئے گجرات واقعے کو پھردہر انا چاہتے ہے ا۔ادھرکانگریس کے سینئرلیڈر اور سابق وزیرخز انہ چدمبرم نے طلاب تاجروں پر حملوں کو ناقا بل بر داشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر بھارت کا نا قا بل تنسیخ حصہ ہے تو ریاست کے لوگ کہاں کے ہیں اور ان پرحملوں کی جو زیت کیا ہے ۔سبق وزیرخز انہ نے کہا کہ سردار پٹیل کے مجسمے کو نسب کرنے یہ جت انے کی کوشش کی گئی کہ وہ ایک مضبوط متحد ہندوستان کی نشانی ہے تاہم ان کے خیالارت کے ساتھ کیا ان لوگوں کونفرت نہیں ہے جوکشمیریوں پر بلا کے جواز کے حملہ کیا کرتے ہیں۔سابق وزیرخز انہ نے میگالیہ کے گورنر کے بیان کوافسوس ناک قر ردیتے ہو ئے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں وضاحت کر نی چاہئے کہ وہ اس عہدے پربیٹھ کر کیاایسابیان دے سکتے ہے یانہیں ۔

Comments are closed.