عسکریت پسندوں سے نمٹنے اور حد متارکہ پر فوج کی تعیناتی کے معملات زیربحث لائے گئیں
سرینگر: لیتہ پورہ خود کش حملے کے بعد ناردھارن کمانڈر نے بادامی باغ فو جی چھاونی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وادی میں حفاظتی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے ،جنگبندی معاہدے کی خلا ف ورزی یورو کنے ،حد متارکہ پرفوج کی تعیناتی کے بارے میں جائزہ لیا 15کارپس کمانڈر نے ناردھار ن کمانڈر کو حفاظتی صورتحال عسکریت پسندوں سے نمٹنے اور حدمتارکہ کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔اے پی آ ئی کے مطابق 14فروری کو لیتہ پورہ اونتی پوری میں فدا ئین حملے کے دوران چالیس سے زیادہ سی آر پی ایف جو انوں کی ہلاکت کا واقع رونماء ہونے کے بعد ناردھارن کمانڈر لیفنن جنرل رنبیرسنگھ نے بادامی باغ فو جی چھاونی میں فو ج کے اعلیٰ افسران کے سا تھ حفاظتی صورتحال کاجائزہ لیا اس موقعے پر ناردھارن کمانڈر کو 15کارپس کے کمانڈر کے جی این ڈھلن نے وادی میں حفاظتی صورتحال عسکریت پسندوں سے نمٹنے اور حد متارکہ پر جنگبندی معاہدے کا جو اب دینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ناردھارن کمانڈر نے لیتہ پورہ فدا ئین حملے کے بارے میں فو جی افسروں سے جانکاری حاصل رنے کے علاوہ اس طرح کے واقعات کو ٹالنے کیلئے ابتدا ئی طور پر اٹھائے گئے اقداما ت کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی ۔اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران عسکریت کوکچلنے اور ریاس ت خاص کروادی کشمیر میں امن بحال کرنے کے معاملات بھی زیربحث لائے گئے ۔ناردھارن کمانڈر نے کئی سرحدی علاقوں کابھی دورہ کیا اور فو ج کی تعیناتی عسکریت پسندوں کی در اندازی کورو کنئے کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات کا از خود جا ئزہ لیا ۔لیتہ پورہ فد ائین حملے کے بعد جہاں بھارت پاکستان کے مابین تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اورردونوں ممالک نے سرحدوں پر فوج کو متحرک کردینے کے علاوہ اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لانے کا سلسلہ شروع کردیاہے وہی ناردھارن کمانڈر کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کو اہمیت کاحامل قرا ردیاجارہا ہے ۔
Comments are closed.